صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
بدھ 22 جنوری 2020 

نقصانات کے باعث پی ایس ایل فرنچائزیز کا پی سی بی سے مالی تعاون کا مطالبہ

ویب ڈیسک | ہفتہ 11 جنوری 2020 

لاہور: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزیز کی اکثریت نے بھاری نقصان کا دعویٰ کرکے مالی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی مالی تفصیلات دینے سے گریزاں ہیں۔باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پی سی بی فرنچائزیز کے مطالبات پر غور کررہا ہے تاہم بورڈ کو محسوس ہورہا ہے کہ کئی فرنچائزیز کی جانب سے جس نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے،اس کی مالی تفصیلات نہ فراہم کرنے کی وجہ سے اس کی تشخیص کرنا ممکن نہیں۔

 معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ وہ فرنچائزیز ہیں جنہوں نے پی ایس ایل 2017 کے بعد اپنے اکاؤنٹس منیجمنٹ کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ سال 2020 میں پی ایس ایل کے تمام میچز متحدہ عرب امارات کے بجائے پاکستان میں کھیلے جائیں گے جس سے اگلے سیزن میں مزید منافع کا امکان بڑھ گیا ہے کیوں کہ ہزاروں لوگ اپنے شہروں میں ہونے والے میچز دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

اس کے ساتھ پی سی بی کو متحدہ عرب امارات کی طرح اسٹیڈیم کرائے پر لینے نہیں پڑیں گے جس سے لاکھوں روپے کی بچت ہوگی اور ملک میں میچز کے باعث سفری اخراجات بھی خاصے کم ہوں گے۔اسی طرح پاکستان میں تمام میچز کھیلنے کی وجہ سے فرنچائزیز کے مالی معاملات بھی خاصے بہتر رہیں گے۔

دوسری جانب فرنچائزیز کے مطالبات پورے کرنے کے لیے پی سی بی اصل معاہدے میں تبدیلی کرے گا جو 10 برس قبل سائن کیا گیا تھا مذکورہ معاملہ رواں ماہ کے آخر میں پشاور میں ہونے والے بورڈ آف گورنر کے اجلاس میں زیر غور آسکتا ہے۔اس کے علاوہ فرنچائزیز پی سی بی سے یہ مطالبہ بھی کررہی ہیں کہ ان سے بینک گارنٹی جمع کروانے کا نہ کہا جائے جو کہ معاہدے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ فرنچائزیز نے بینک ضمانت کی جگہ بعد کی تاریخوں کے چیکس جمع کروانے کی پیشکش کی ہے کہ اگر اس میں کوئی چیک قبول نہیں ہوا تو پی ایس ایل ختم ہونے کے بعد یکم اپریل سے آئندہ 2 سال تک بینک گارنٹیز جمع کرواسکتے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پی سی بی کو بینک گارنٹیز کے بجائے بعد کی تاریخوں کے چیکس کی صورت میں کچھ سیکیورٹی مل چکی ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اس کے ساتھ فرنچائزیز نے معاہدے کے تحت کی جانے والے ادائیگی میں شرح زرِ مبادلہ کا اطلاق نہ کرنے کی درخواست کی ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی کے باعث انہیں تھوڑا اطمینان ملے گا۔اس صورت میں پی سی بی کم از کم بینچ مارک کی صورت میں ایک ڈالر کے عوض ایک سو 38 روپے کی مالیت پر راضی ہوگیا ہے جو اس وقت ڈالر کی قیمت تھی جب پی ایس ایل کی چھٹی فرنچائز ملتان سلطان کو فروخت کیا گیا تھا۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔