صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ دسمبر 2019 

بولنے سے معذور افراد کے گلے پر چپک کر آواز بننے والا انقلابی آلہ

اکثریت ڈیسک | منگل 30 جولائی 2019 

مشن امپاسیبل جسی فلموں میں آپ نے حلق کے باہر لگائے جانے والا ایک آلہ دیکھا ہوگا جو کسی کی بھی آواز خارج کرتا ہے۔ اسی سائنس فکشن کہانی کو اب چینی سائنسداں نے حقیقت کا روپ دیا ہے۔ ایک اسٹیکر نما آلہ بنایا گیا ہے جو بولنے سے قاصر افراد کے حلق سے چپک کر ان کی آواز بن جاتا ہے۔

بیجنگ میں واقع سنگوا یونیورسٹی کے ماہرین نے حلق پر چپکائے جانے والا ایک اسٹیکر نما آلہ بنایا ہے ۔ یہ پہلے پہننے والوں کے لیے تکلیف دہ تھا لیکن اب اسے مزید تبدیل کرکے کاغذ کی طرح ڈھالا گیا ہے۔ اسے پانی سے گیلا کرکے گردن کے اس مقام پر لگایا جاسکتا ہے۔ جیسے ہی بولنے والا شخص کوئی لفظ بولتا ہے اس سے آواز خارج ہوتی ہے۔

اسے پہنے جانے والا مصنوعی گرافین حلق ( ویئرایبل آرٹیفشل گرافین تھروٹ یا ڈبلیو اے جی ٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اسے گرافین سے بناکر پولی وینائل الکحل کی ایک پتلی پرت پر چپکایا گیا ہے۔ اسٹیکر کی چوڑائی اور لمبائی بالترتیب 15 سے 30 ملی میٹر ہے۔ فی الحال اسے تار کے ذریعے بازو پر بندھے ایک سرکٹ سے جوڑا گیا ہے جس میں ڈیکوڈر، پاورسپلائی اور مائیکروکمپیوٹر نصب ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ بولنے سے محروم افراد جملوں اور لفظوں کی نقل کرتے ہیں جس سے حلق میں صوتی تاروں ( ووکل کورڈز) میں حرکت ہوتی ہے۔ ڈبلیو اے جی ٹی بیرونی کھال سے ان حرکات کو نوٹ کرتا ہے اور حلق کی حرکت کی بنا پر اسپیکر سے بعض سادہ الفاظ مثلاً ناں، ہاں، ہیلو اور اوکے خارج کرتا ہے۔

یہ کام پروفیسر ہی تیان اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے جس کی تفصیل اے سی ایس نینو جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ تاہم اس کی زیادہ تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔