صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
اتوار 24 مارچ 2019 

معاشی ترقی کیلئے خطے میں امن کی ضرورت ہے، وزیرخارجہ

اکثریت ڈیسک | بدھ 13 مارچ 2019 

 اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے معاشی ترقی کیلئے خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں عالمی لیڈرزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں 25 ممالک کے 60 وفود کواس کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں، میں یورپی یونین، یورپین پارلیمنٹ کے تعاون کا شکر گزار ہوں، 26 مارچ کو موگیرینی پاکستان تشریف لارہی ہیں اوریورپی یونین اورپاکستان کے مابین اسٹریٹیجک شراکت داری پر مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کوتبدیلی کیلئے ووٹ دیا، عوام نے روایتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کیا اورپانچ سالہ مدت کے اختتام پر آپ تبدیلی دیکھیں گے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد سیاسی مقاصد کیلئے جنگی ماحول پیدا کیا، وزیراعظم عمران خان نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تمام جماعتیں آگے آئیں۔

شاہ محمود نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ترجیح اقتصادی بحالی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی یہاں رہیں اورانہیں اقتصادی ترقی کے بہترین مواقع میسرہوں اوروہ اپنے پاکستانی ہونے پرفخرکرسکیں، ہمیں بہت سے اقتصادی چیلنجزکا سامنا ہے اور ہم ان سے باخبر ہیں جب کہ ہمیں اداروں کے انحطاط کا ادراک ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ 6.6 فیصد معاشی خسارہ، 10 سال میں قرضہ کے بوجھ کا کئی گنا بڑھنا، بیرونی سرمایہ کاری میں مستقل کمی اوربے روزگاری، 1/3 آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا یہ وہ تمام چیلنجزہیں جن کا ہم پچھلے چھ ماہ سے مقابلہ کررہے ہیں، ان تمام منفی عوامل سے نمٹنے کیلئے اور اقتصادی بحالی کیلئے وزارت خارجہ میں ہمارا اولین فوکس معاشی سفارت کاری پر ہے، ہمیں اپنے معاشی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطے میں امن کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہمارے خطے کی تعمیروترقی کے لئے ناگزیر ہے اس لیے ہم مستقلاً افغان امن عمل کے لیے سہولت کار کا ادا کررہے ہیں، مشرقی سرحد پر ہماری حکومت شروع سے امن اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔  کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی اسی زمرے میں آتا ہے تاکہ ہم خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کا فروغ ہو۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پچھلے ادوارمیں میٹرو جیسے بڑے منصوبے شروع کر کے قرضے میں ڈوبی ہوئی معیشت پرسبسڈیز کا بوجھ لاد دیا گیا، سعودی عرب کے ساتھ 20 ارب کے معاہدے کرنا بھی ہماری اقتصادی بحالی کی طرف قدم ہے، مہاتیر محمد جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں ہم ان کے تجربے سے مستفید ہوں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم بہتراور نئے پاکستان بنانے کیلئے پوری ایمانداری اورتندہی سے کوشاں ہیں اور انشاءاللّٰلہ ہم کامیاب ہوں گے۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔