صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
ہفتہ 25 جون 2022 

چینی مصور کے شاہکار، مہنگے ترین فن پاروں میں شمار

disk news | منگل 14 جون 2022 

 

یجنگ: اگرچہ زینگ دائی چیان امریکا اور یورپ میں اتنے مقبول نہیں تاہم چین اور نواح میں ان کا نام بہت احترام سے لیا جاتا ہے اور اب ان کے بنائے ہوئے مصوری کے شاہکار پوری دنیا میں سب سے  مہنگے فروخت ہورہے ہیں۔

زینگ کو مشرق کا پکاسو بھی کہا جاتا ہے اور ان کی پینٹنگ کئی مرتبہ مشہور ترین مصور ونسنٹ وین خوخ سے بھی زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی ہیں۔ ان کی موت کے 40 برس بعد 1947 میں بنائی گئی ان کی پینٹنگ نیلام ہونے والی مہنگی ترین تصویر تھی جو ہانگ کانگ میں 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر میں نیلام ہوئی تھی۔

 

 

پھر سال 2016 میں ان کی کچھ پینٹنگ نیلام ہوئیں اور مجموعی طور پر 35 کروڑ40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کےبدلے شائقین تک پہنچیں۔ اس طرح پوری دنیا میں زندہ یا فوت شدہ مہنگے ترین مصور میں شمار ہونے لگے۔ اس مرحلے پر ان کی پینٹنگ ونسنٹ وان خوخ سے بھی مہنگے داموں فروخت ہوئیں۔

 

سان فرانسسکو میں ایشیائی آرٹ میوزیم سے وابستہ مارک جانسن کہتے ہیں کہ جلد ہی زینگ کی تصاویر کی مالیت دوگنی ہوجائے گی کیونکہ مغرب میں لوگ اس سے واقف ہورہے ہیں اور خریداروں نے نہایت چالاکی سے ان کے فن پاروں کو کم قیمت میں خریدا ہے۔

 

زینگ دائی چیان بیسویں صدی کے مشہور مصور اور پینٹر گزرے ہیں جن کی پیدائش سچوان میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پہلے چینی خطاطی سیکھی اور اس کے بعد روایتی چینی تصویروں کو نقل کرنا شروع کیا۔ ان کی والدہ بتاتی ہے کہ لڑکپن میں انہیں ڈاکوؤں نے قید کرلیا تھا تو وہاں بھی اس نے شاعری کی کتابیں پڑھیں کیونکہ اسےپڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ ڈاکوؤں کے پاس چوری شدہ کتب تھیں جو زینگ کے لیے خزانہ ثابت ہوئیں۔

زینگ کی وفات دو اپریل 1983 کو ہوئی اور انہوں نے لاتعداد پینٹنگ اور تصاویر بنائیں جو اب دنیا بھر میں انتہائی مہنگے داموں فروخت ہورہی ہیں۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔