صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
بدھ 25 مئی 2022 

خون میں آکسیجن کی درست مقدار بتانے والا اسٹیکر

disk news | بدھ 11 مئی 2022 

لندن: قارئین کو یاد ہوگا کہ کورونا وبا کے دوران خون میں آکسیجن ناپنے کے پلس آکسی میٹر کی شدید طلب تھی۔ اب اسی بنا پر ایک کم خرچ اور مؤثر اسٹیکر بنایا گیا ہے جسے جلد پرلگا کر خون میں آکسیجن کی مقدار معلوم کی جاسکتی ہے۔

اس پیوند کی جسامت ایک چھوٹے بٹن جیسی ہےجو آکسیجن کی موجودگی اس وقت جامنی رنگت کے ساتھ روشن ہوجاتا ہے جب اس پر نیئر انفراریڈ روشنی ڈالی جائے۔ اپنی سادگی کی بنا پر یہ ایک بہترین سینسر بن سکتا ہے۔ تاہم اسےبدل کردوسری کیفیات کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ کیپلان اور ان کے ساتھیوں نے یہ ایجاد کی ہے جو ایک باریک جھلی جیسی ہے۔ اسے چند منٹ کی جراحی کے بعد جلد کی اوپری سطح کے نیچے لگایا جاسکتا ہے اور مریض کو بہت معمولی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے گویا یہ ایک ٹیٹو کی طرح کا پیوند بن جاتا ہے۔

 

اس کی باریک پرت ایک نفوذپذیر جیل کی طرح ہے جسے ریشم کے پروٹین فائبروئن سے تیار کیا گیا ہے۔ فائبروئن نہ صرف ازخود حیاتیاتی طور پر گھل کر ختم ہوسکتا ہے پھر یہ حیاتی طورپر انسانی جسم کے لیے بھی موزوں ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ  اس میں ایک مرکب پی ڈی بی ایم اے پی ملایا گیا ہےاور آکسیجن سے بھرپور ماحول میں جب جب اس پر نیئر انفراریڈ (زیریں سرخ) روشنی ڈالی جائے تو اسٹیکر جامنی روشنی خارج کرنے لگتا ہے۔ یوں ایک عرصے تک یہ بدن کے اندر آکسی میٹر کا کام کرتا ہے اور اپنی کیفیت کی بنا پر چند ہفتوں یا مہینوں میں گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

اس کی پہلی آزمائش چوہوں پر کی گئی ہے تو اس نے روشنی خارج کرکے خون میں آکسیجن کی درست مقدار ظاہر کی۔ جس کی تصدیق دیگر طریقوں سے بھی کی گئی ہے۔

لیکن مزید بہتری کرکے خون میں شکر، لیکٹیٹ اور الیکٹرولائٹس معلوم کرنے کےلیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔