صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
منگل 11 مئی 2021 

لاک ڈائون کے باعث غریب گھرانے بری طرح متاثر

رپورٹ: شاہدخان | پیر 30 نومبر 2020 

پشاور صدر کے قریب گلبرگ کے دو کمروں کے اوسط درجے کے فلیٹ میں بیٹھی ساٹھ سالہ خاتون کے چہرے پر افسردگی کے آثار ہیں لاک ڈائون کی کہانی سناتے ہوئے کہتی ہیں

 ''جب کوئی دروازے پر دستک دیتا تو میرا دل بیٹھ جاتا ، پائوں تلے سے زمین کسک جاتی ، ڈر لگا رہتا کہ پھر سے کوئی قرض دار یا مالک مکان آیا ہوا ہوگا اور پھر سے باتیں سننی پڑیں گی''۔
 خاتون نے بتایاکہ ''حکومت نے تو واضح کیا تھا کہ لاک ڈائون کے دوران مالک مکان کرایے کیلئے کسی پر دبائو نہیں ڈالے گا نہ ہی کسی ملازمین کو نوکری سے نکالا جائیگا اور نہ بجلی ، گیس اور پانی کے بل ٹائم پر ادا کرنے ہونگے''۔
مگر حقیقت بزرگ خاتون یاسمین کیلئے اس کے برعکس تھی۔ مالک مکان بار بار ان کو کرایہ کیلئے تنگ کرتا رہتا۔ یہ بزرگ خاتون یاسمین پشاور صدر کے علاقے گل برگ نمبر2 میں قائم پلازے کے دو کمروں کے فلیٹ میں کرایے پر اپنے دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی ہے اور ان کے شوہردرزی کے دکان پر کام کرتے ہیں۔
''شوگر کی بیمار ہوں، انسولین ہمسایو کی فریج میں رکھتی تھی ، ہماری معاشی حالت اتنی خراب ہوئی تھی کہ پانی ٹھنڈا کرنے کیلئے برف خریدنے کے بھی پیسے نہیں تھے ، روزہمسایوں کے گھر سے برف لیجانے پر مجبور تھی''۔خاتون نے دھیمی آواز میں کہا۔
خاتون کی دو جوان بیٹیاں ہیں، بڑی بیٹی نجی سکول میں استانی ہے ، دوسری کالج آف ہوم اکنامکس میں زیر تعلیم ہے جبکہ وہ خود گھر میں سلائی کڑائی کرکے خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹاتی ہے۔ مارچ 2020ء میں کورونا وائرس پھیلنے کے باعث لاک ڈاون کا علان ہوا ، مسلسل 6ماہ دکان بند ہونے سے گھر کا سربراہ ( خاتون کا شوہر) بے روزگار ہوگیا، نجی سکول بند رہے تو بڑی بیٹی کی تنخواہ بھی رک گئی۔ ذریعہ معاش ختم ہوگیا تو فلیٹ کا کرایہ دینے سے قاصر رہے جبکہ بجلی کے بل ادا کرنے کیلئے بھی پیسے نہیں تھے۔
یاسمین نے بتایا''حکومت کے اعلان سے دل کو تسلی ہوئی کہ چلو لاک ڈاون میں بجلی کے بل میں ریلیف تو مل جائیگا لیکن جب بل آیا تو اوسان خطا ہوگئے کیونکہ بل میں تین ماہ کی ادائیگی یکمشت ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی''۔
 ''تین ماہ کا بجلی بل اور فلیٹ کا کرایہ اتنا زیادہ تھا کہ اگر ہم گھر کا سامان بھی بھیج دیتے تو کافی نہیں تھا، مالک مکان کی کرایے کیلئے بے عزت کرتا تو اپنی موت کی دعائیں مانگتی تھی''۔ یاسمین نے ماضی کی تلخیوں سے برے لہجے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران ہی مالک مکان نے کرایہ بھی بڑھا دیا۔دو تین مہینے تک تو مالک مکان نے صرف یادہانی کرانے پر اکتفا کیا لیکن اس کے بعد وہ کرایہ کیلئے دباو ڈالنے لگااورسامان باہر پھینکنے کی بھی دھمکیاں دیتا رہا۔
''شام کے وقت فلیٹ کے مالک نے بجلی کنکش کاٹ دیا تو شدید گرمی سے برا حال تھا، رات کو غم اور ذہنی دباو کے باعث شوگر لیول اتنا بڑھ گیا تھاکہ جب میرے شوہر مجھے ہسپتال لے کرگئے تو ڈاکٹر نے بتایاکہ اگر وقت بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا ہوتا تو فالج یاگردے فیل ہوجاتے''۔
انہوں نے کہاکہ لاک ڈاون کے ستائے کمزور طبقے کے لئے حکومت کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت جو امدادی رقم مل رہی تھی ، اندارج نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی نہیں مل سکی۔
یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا میں 16مارچ کو کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد 22مارچ کو لاک ڈاون کا سلسلہ شروع ہو تھاجس کے تحت تمام تعلیمی اداروں سمیت کاروباری مراکز ، ٹرانسپورٹ، تفریحی مقامات اور پارکس کو مکمل طورپر بند کردیا گیا۔ جون میں محکمہ ترقی و منصوبہ بند ی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں پہلے تین ہفتے کے لاک ڈاون کے دوران 13 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے بیروزگار ہونیوالوں میں 3 لاکھ 60 ہزار ٹرانسپورٹ ، 3 لاکھ تعمیراتی ،ڈھائی لاکھ صنعتی شعبے سے وابستہ تھے ،زراعت سے وابستہ سوا لاکھ اور ہوٹلزمیں کام کرنیوالے ساڑھے پانچ لاکھ افراد بھی بے روزگار ہوئے ،بیروزگار ہونیوالوں میں 12 لاکھ سے زائد مرد اور ایک لاکھ تک خواتین شامل ہیں ، محکمہ ترقی و منصوبہ بندی نے خدشہ ظاہر کیا تھاکہ لاک ڈاون میں طوالت کی صورت میں بیروزگار ہونیوالے افراد کی تعداد 23 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے ، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں یومیہ اور ماہانہ اجرت پر کام کرنیوالے مزدوروں کی تعداد 77 لاکھ ہیں جن میں 64 لاکھ مرد اور 13 لاکھ خواتین رسمی و غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہیں، اگرچہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا میں 35 لاکھ خاندانوں کو احساس کفالت پروگرام کے تحت12 ہزار روپے فی خاندان مالی معاونت کی تاہم احساس پروگرام کے پاس ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے کئی نادار اور لاک ڈاون سے بے روزگار ہونیوالے خاندان محروم رہے۔
بزرگ خاتون یاسمین نے بتایا ''آخر کار ستمبر میں لاک ڈاون ختم ہوا تو امید پیدا ہوگئی کہ اب زندگی کا پہیہ چل پڑے گا لیکن لاک ڈاون کے خاتمے کے ساتھ ہی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا جس کی وجہ سے گھر کا چولہا چلانا مشکل ہوگیاہے''۔
اپنی بات جاری رکھتی ہوئی انہوں نے مزید کہا'' لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد جیسے تیسے کرایہ اور بجلی کے بقایاجات توختم کردئیے لیکن اب ایک مرتبہ پھر حکومت کی جانب سے سکولوں کی بندش اور لاک ڈاون لگنے کی باتیں ہورہی ہیں''۔
''سوچتی ہوں خدانخواستہ اگر دوبارہ لاک ڈاون لگ گیا اور روزگار ٹھپ ہوگیا تو گزارا کیسے ہوگا''۔ خاتون نے بے بس انداز میں اپنی کہانی ختم کرتے ہوئے کہا اور خاموش ہوگئی۔
یہ کہانی محض ایک خاندان کی نہیں بلکہ ایسے لاکھوں خاندانوں کی ہیں جس کا روزگار کورونا کے باعث لگنے والی لاک ڈان کی نظر ہوگیا۔
مارچ سے ستمبر تک کے لاک ڈاون کی وجہ سے ہر طبقہ کے لوگ متاثر ہوئے ، بے روزگار ہونیوالے افراد اور متاثرہ خاندانوں سے متعلق نہ صرف حکومت اور متعلقہ اداروں بلکہ کسی بھی غیر سرکاری ادارے کے پاس بھی کوئی مفصل ڈیٹا موجود نہیں۔ خیبرپختونخوا کے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور بیورو اف سٹیٹسٹکس کے ذرائع کے مطابق لاک ڈاون میں بے روزگار ہونے والے افراد کی تفصیلات کیلئے تاحال کوئی سروے نہیں کیا گیاہے تاہم اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، سروے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے گلے سال یعنی 2021ء میں سروے کا آغاز کیا جائیگا۔ بیورو اف سٹیٹسٹکس کے حکام کے مطابق وہ خود سرویز وغیرہ نہیں کرتے بلکہ متعلقہ محکموں اور اداروں سے تفصیلات اکٹھا کرتے ہیں۔ لاک ڈاون سے میں بے روزگار ہونیوالے افراد کی تفصیلات جاننے کیلئے ہونیوالی سروے کیلئے عملے کی تربیت کا عمل جاری ہے۔ سروے سے نہ صرف لاک ڈاون میں بے روزگار ہونے والے لوگوں کا مفصل ڈیٹا سامنے آئے گا بلکہ 2021ء تک صوبے میں لیبر فورس یعنی مزدوروں کی تعداد بھی معلوم ہوسکے گی۔
خیبرپختونخوا میں 4ماہ کے وقفے کے بعد گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے،بڑھتے کیسز کے پیش نظر سکولوں کے بند کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں ، شادی ہالز سمیت تمام کاروباری مراکز کو رات 10بجے اور تفریحی مقات اور پارکس کو شام 6 بجے تک بند کرنے کے احکامات جاری کئے جاچکے ہیں۔ 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔