صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
ہفتہ 24 اکتوبر 2020 

عربی ممالک اسرائیل اور امریکی نرغے میں

محمد حاتم | پیر 28 ستمبر 2020 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کیساتھ امن سمجھوتہ کرکیاسلامی دنیا اور بالخصوص فلسطینی عوام کی پشت میں خنجر گھونپا ہے۔ امریکا اپنی بغل بچہ اسرائیل کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں بلکہ عربوں کی نسل کشی چاہتا ہے۔ جیسے امریکیوں نے ریڈانڈین نہتے قبایل کی نسل کشی کی اور آج ان کی نسل معدوم ہوتی جا رہی ہے بالکل ویسے ہی عربوں کی نسل کشی چاہتا ہے تاکہ خطے میں اپبے اثررسوخ کو بڑہا سکے ۔ 
اگر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا ان مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف فلسطینیوں کو بہ تدریج جھکانا تھا اور امریکی ریڈ انڈینز کے بعد فلسطینی وہ دوسری قوم ہے جو امریکی مذاکراتی پالیسی کے نتیجے میں معدودیت کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اور یہی انجام اور یہی مقدر خطے کی دوسری مفاہمت کرنے والی ریاستوں کا منتظر ہے ، لہذا خطے میں مسلم ممالک کی تباہی کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مسلمانوں کا پہلا قبلہ آزاد نہیں ہو جاتا۔ 
کچھ غیر عرب ممالک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے عرب مملک کے فیصلے کے منتظر ہیں لیکن یہ فیصلہ مسلمانوں کو ایک غلط سمت میں لے جا رہا ہے کیونکہ مسلمان قرآن ور ختم نبوت کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں اسلامی تعلیمات کو ایک خاص قوم سے جوڑنادرست نہیں اور اسلامی تعلیمات اور اللّٰلہ تعالی کے فرامین کو ماننا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ 
جب اسلامی دنیا امارات اور اسرائیل کے درمیان کئے گئے امن سمجھوتے کو دھوکہ اور فریب سمجھتے ہیں تو اس میں عرب قوم بھی شامل ہوتی ہے۔ 
یو اے ای کی غداری یقینی طور پر تادیر نہیں رہے گی لیکن اس شرم ناک اقدام کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انھوں (اماراتیوں) نے صہیونی نظام کو خطے میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے اور فلسطینیوں کو فراموش کردیا ہے۔
عربی ممالک کی اکثریت جیسے کہ بحرین جو کسی زمانے میں ایران کا حصہ ہوا کرتا تھا امریکی چھتری تلے اکھٹے ہیں اور ایران کے بارے میں ان کا موقف ایک جیسا ہے یہ ممالک امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتے ہیں تو ظاہری سی بات ہے امریکی موقف کی تائید اور اسرائیل کو امریکی ایما پر تسلیم کرنا ان کیلئے اہم ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں اس طرح ان کی طاقت ہمیشہ برقرار رہے گی لیکن اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہئے کہ غیرملکی طاقتیں اسرائیل کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے ذریعہ ایران سمیت اسلامی دنیا کے اہم ممالک کو الگ تھلگ کرنے کے مقصد کو حاصل کریں ۔ 
اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے خطے کے عربوں کی شدید خواہش ، پاکستان سمیت ان ممالک کیلئے ایک انتباہ ہے جو فلسطینی مقاصد کی حمایت کرتے ہیں ، کیونکہ یہ مسئلہ وقت گزرنے کیساتھ مزید گھمبیر ہوتا جائے گا اور اس سلسلے میں پاکستان کیلئے عائد کی جانے والی شرائط میں بھی اضافہ بھی ممکن ہے۔ 
لیکن ایک بات توجہ طلب ہے وہ یہ کہ عربی ممالک کو خطے میں شام ، عراق ، یمن اور افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کے تباہ کن نتائج کا ادراک کیوں نہیں ہے ، انہیں یہ احساس کیوں نہیں ہے کہ امریکہ کبھی کسی ملک کا دوست نہیں رہا ہے اور صرف اپنے مفادات کی جنگ لڑتا ہے۔ 
وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل نہیں نکلتا اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا، بے شک دنیا اسرائیل کو تسلیم کرے، جب تک فلسطین ایسا نہیں کرے گا کوئی فرق نہیں پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی ملک اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو سب سے زیادہ مزاحمت فلسطین سے کی جاتی ہے۔ جب اسٹیک ہولڈرز تسلیم نہیں کررہے تو ہم کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ عرب ممالک کی اندھی تقلید کی بجائے قائد اعظم محمد علی جناح کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے فلسطین سمیت تمام مظلوم مسلمانوں کی آزادی کیلئے ان کا ساتھ دے گرچہ پاکستان کی جانب سے اسرئیل کے بارے میں پالیسی واضح ہے تاہم اس کے باوجود اس کو دیگر مسلمان ممالک کو بھی اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ وہ اس گھڑی میں بھی فلسطینیوں کا ساتھ دیں تاکہ اسرائیل اور اسکے حواریوں کو یک واضح پیغام جا سکے کہ امت مسلمہ جاگ رہی ہے اور اسرئیل کا حشر بھی جنوبی افریکا کی رجیم اپارتھائید کی مانند ہوگا ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سلسلے میں پاکستان اور ایران کی حکومتوں کا کردار نہایت اہم ہے ۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔