صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
ہفتہ 24 اکتوبر 2020 

ضم قبائلی اضلاع کچھ تلخ حقائق

میرسلام بیٹنی | پیر 28 ستمبر 2020 

 انضمام سے پہلے اور بعد میں ضم اضلاع کی ترقی کے نام پر بہت کچھ ہوچکا ہے اور اب بھی ہورہا ہے ۔مال بٹورنے کیلئے یہاں کے نمائندوں ، بیوریکریٹس اور ملک صاحبان نے خود اپنے قبائلی عوام کا چہرہ دنیا کے سامنے خوفناک بناکر پیش کیا ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ بجائے ان علاقوں کی ترقی کیلئے کچھ کرنے ان لوگوں نے ان کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کے عوامی نمائندے ، اس میں تعینات بیوریکریٹس اور وہ نام نہاد قبائلی مشران جن کا اوڑھنا بچھوڑنا سب کچھ اسلام آباد یا پشاور میں ہیں لیکن خود کو قبائلی نمائندے بنائے ہوئے ہیں ۔ اپنی زاتی مفاد کے حصول، اپنے بینک بیلنس کو بھرنے،اپنی سیاست کو چمکانے ، اپنا من گھڑت ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سب بڑی ڈھٹائی کیساتھ قبائلیوں کا نام استعمال کررہے ہیں ۔
 قبائلیوں کے عوامی نمائندے جن کو ووٹ دے کر کامیاب کئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی قبائلیوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل سننے کی زحمت نہیںکی ہے اسمبلی میں کھڑے ہوکر اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تو قبائلی عوام کے نام پر بہت کچھ کہہ جاتا ہے لیکن کیا ایوان میں سے کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ جب سے تم پاس ہوئے ہو اپنے حلقے میں کتنی دفعہ گئے ہو۔ آپ کو علاقے کیلئے جو فنڈ دئیے گئے ہیں ان پر اپنے چہتوں کو بٹھاکر قبائلی عوام کو روز پشاور اور اسلام آباد کے چکروں میں کیوں لگا رکھا ہے ؟ کیا کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ اسمبلی سیشن ختم ہونے کے بعد تم اسلام آباد اور پشاور میں کیا کرتے ہو؟ کونسا قانون ہے جس کے تحت آپ ترقیاتی فنڈز کو اپنی زاتی فنڈ سمجھ رہے ہیں اور جہاں ضرورت بھی نہیں ہوتی آپ وہاں انہیں لگا لیتے ہیں ۔ قبائلی عوام کے ووٹوں سے اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے والوں سے کسی نے پوچھا ہے کہ یہاں پراڈو میں گھومنے اور اے سی کمروں میں رہنے والوں آپ کو تو وہاں قبائلی عوام کے درمیان ہونا چاہئے تھا ۔ کیا اسمبلی میں پہنچنے والوں کا کام صرف مگر مچھ کے آنسو بہا کر شدت پسندی اور پسماندگی کے نام پر بس صرف ترقیاتی فنڈز کی فرمائیشیں کرنا ہے ،زیادہ فنڈز قبائلیوں کیلئے نہیں اپنے کمیشن کیلئے مانگا جارہاہے ورنہ قانون سازی کی الف بے سے بھی یہ لوگ واقف نہیں جو ان کا اصل کام ہے ۔ 
 مردان ، پشاور ہ میں تعینات ڈپٹی کمشنر اچھا بھلا انسان ہوتا ہے لیکن رب جانے اور ہم قبائلی عوام کہ جب یہی شخص کسی قبائلی ضلع میں تعینات ہوتا ہے تو ان کا آفس شرمناک سودہ بازی کا منظر پیش کرتا ہے جہاں آنے جانے والے لوگوں کو سائلین نہیں ، ضرورت مند نہیں بلکہ ''گاہک'' کہا جاتا ہے ۔ پرسنٹیج وہ بے رحم لفظ ہے جو ان دفتروں میں سلام کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے اور یہی پرسنٹیج ہمارے قبائلی علاقوں کی ترقی میں سب سے اہم رکاوٹ ہے جس کو دور کرنامشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور وہ اس لئے کہ پرسنٹیج کی یہ ایک لمبی لڑی اوپر سے نیچے تک گئی ہوتی ہے اس لڑی کے آخری سرے پر ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی کی بہت بڑی سکرین لگائی گئی ہے جس پر خان صاحب کو ضم اضلاع میں جاری ترقی دکھائی جارہی ہیں ۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پشاور میں ترقی کے نام پر میٹنگز پر میٹینگز اور یہاں گرائونڈ پر فوٹوں سیشنوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ضم اضلاع کے قبائلیوں سے کھیلے جانے والے اس کھیل میں وہ قبائلی لوگ بھی شامل ہیں جو قبائلی علاقوں کے نام پر قبائلی علاقوں سے باہر رہ کر اپنا نام اور دام بنارہے ہیں ۔ خود کو بڑے مظلوم بنا کر جیسے پورے قبائلی علاقوں کا ظلم ان کیساتھ ہوا ہے لیکن اس کا اصل حدف اپنی زات کیلئے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہ قبائلی علاقوں کی تصویر جس انداز سے پیش کرتا ہے جیسے قبائلی علاقوں میں انسان نہیں بھیڑئیے بستے ہو۔ ہم نے اکثر سیاسی رہنمائوں اور نام نہاد قبائلی مشران سے یہ سنا ہے کہ وہاں دہشت ہے، خوف ہے لوگ قتل ہورہے ہیں ، جہالت ہے یہ ہے وہ ہے لیکن ایک باشعور قبائلی اب جان چکا ہے کہ ان کی یہ جھوٹی چیخ و پکار کا اصل مقصد کچھ اور ہے ۔ خود ان کا کردار کیا ہے اور خود ان کے کرتوت قبائلیوں کو کس جانب دھکیل رہے ہیں سمجھنے والوں کیلئے اس میں بہت کچھ ہے ۔ کسی نے آج تک قبائلی علاقوں کی مہمان نوازی ، امن پسندی ، انسانیت ، محب الوطنی اور وسعت قلبی کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا ۔
 قوم پرستی پر سیاست کرنے والے وہاں خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو چھوڑ کر یہاں درس قومیت دینے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں ۔ انضمام کے مخالفین آج بھی انضمام بارے لوگوں کو متنفر کرکے اگلے روز پشاور کیلئے روانہ ہوجاتے ہیں ۔ پشتونوں کے حقوق مانگنے والا ایک اور ٹولہ کسی ٹرپ پر آکر قبائلی عوام کو سیکورٹی اداروں کیخلاف بھڑکاکرواپس اسلام آباد کا رخ کرجاتے ہیں تاکہ وہ محفوظ رہے بعد میں جو ہونا ہے ہونے دے۔ جبکہ حکمران جماعت وہاں پشاور میں ضم اضلاع کی ترقی کے اعلانات کرتے کرتے تھک ہار بیٹھی ہے ۔ اللّٰلہ تعالیٰ ہمارے قبائلی عوام کا حامی ہو بس میں تو صرف یہی کہہ سکتا ہوں کیونکہ ایک ہوتا تو ان سے جان خلاصی ہوجاتی یہاں تو سب نے قبائلیوں کو ضم نہیں ''ہضم'' کرنے کی قسم کھائی ہے۔ 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔