صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ 18 ستمبر 2020 

نئی نسل میںمنشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

عبدالطیف حقانی | جمعرات ستمبر 2020 

پوری دنیا منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کیساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ کر کھائے جارہی ہے۔سگریٹ سازی کی صنعت کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے، لیکن یہ کس قدر مضحکہ خیزامر ہے کہ سگریٹ کی ڈبیہ پر''خبردار!تمبا کو نوشی صحت کیلئے مضرہے'' جیساوعظ رقم کیا جاتا ہے، لیکن اس سگریٹ سازی کی صنعت کو روکنے یا اس کی خریدوفروخت کے حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔آج کے دور میں نوجوان نسل، حتی کہ لڑکیوں میں بھی شیشہ کا استعمال ایک فیشن بن کررہ گیا ہے، لیکن ان کیخلاف نہ کوئی ایکشن ہوتا ہے اور نہ ہی آپریشن… میڈیا پر باقاعدہ منشیات کے استعمال کی مختلف حیلے بہانوں سے ترغیب دی جاتی ہے،کبھی سگریٹ نوشی کوپریشانی اور ڈپریشن کا تدارک خیال کیا جاتا ہے،کبھی اس سے ملتے جلتے دیگر مناظردکھائے جاتے ہیں اور اشتہاری صنعت میں سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیا کے باقاعدہ اشتہارات چلائے جاتے ہیں اور پھر اس کیساتھ ساتھ وزارت انسداد منشیات کو منشیات پر کنٹرول کا ٹاسک بھی سونپاجاتا ہے۔ گاہے یوں لگتا ہے کہ ہمارے ہاں پانی ابالنے کیلئے کسی دیگچی میں ڈال کر چولہے پر چڑھا دیا گیا ہے اور اس کو ٹھنڈا کرنے کیلئے آگ بجھانے کا خیال کسی کو نہیں آتا، بلکہ برف کی ٹکڑیاں پانی میں ڈال کر اسے ٹھنڈا کیا جارہا ہو ہے۔

منشیات کی عادت ایک خطرناک مرض ہے۔ یہ خود انسان کو اور اس کے گھربار کو معاشرے اور پورے ملک و قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔ اگر ایک بار کوئی نشہ کرنے کا عادی ہوجائے تو وہ پھنستا ہی جاتا ہے۔اور پھنسے کے بعد اس کے مضر اثرات کا انہیں ادراک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں اس کیخلاف آواز اٹھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟؟؟
منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناوں کی بھی موت ہوتی ہے ،ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے جیسی لعنت کو اپنا لیتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل منشیات، شراب، جوے اور دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نا صر ف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کیلئے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے۔ ملک و قوم کی ترقی اور مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم پیشہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ نشہ جسم کیساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر کے رکھ دیتا ہے۔منشیات کے کاروبار میں ملوث اسمگلرز کی پشت پر اثر و رسوخ کے حامل افراد ہوتے ہیں جو قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی اپنے ایجنٹوں کی ضمانت پر رہائی کا بندوبست کر لیتے ہیں۔بعض افراد کے مطابق منشیات فروش یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا کو نشانہ بنا کر نشے کی لت لگا رہے ہیں جب کہ پولیس اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ڈرگ مافیا اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ پولیس ڈرگ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے کی بجائے چھوٹے موٹے منشیات فروشوں کو پکڑ کر اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے مقدمات درج کر لیتی ہے لیکن ان کے پس پشت کار فرما بااثر افراد پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ یہی وجوہات ہیں جن سے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبا میں منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔علاقے میں کہاں کہاں منشیات فروخت ہو رہی ہے' علاقہ پولیس اور دیگر ادارے اس سے باخبر ہوتے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں اسی وجہ سے ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکاروں کیلئے جدید منشیات فروشوں تک رسائی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ کئی تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کا عملہ شراب کی فروخت میں ملوث ہے، طلبہ اور طالبات نائٹ پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں، جہاں شراب اور دیگر منشیات کا استعمال عام ہے۔
یہاں چرس اور افیون کیساتھ ساتھ تمام نشہ آوراشیاء کا استعمال ہوتا ہے، اور اس کیساتھ آئس نام کا ایک نیا نشہ عام ہو گیا۔فلموں اور ڈراموں میں نام نہاد ایکٹرز کے ہاتھ میں اکثر سیگریٹ ہوتاہے ۔اورخصوصا پشتو کے جتنے میں بھی ڈرامے ہیں انہیں دیکھ یہ تاثر ملتاہے کہ گویا یہ ڈرامہ خاص کر منشیات کو فروغ دینے کے لئے بنایاگیاہے۔بڑے بڑے چوک چوراہوں، ٹیکسی سٹینڈز،بس اڈوں،فلائی اوورز کے نیچے اور ایسے بے شمار جگہیں ہے جہاں یہ ناسور کھلے عام ملتا ہے۔یاد رہے کہ جب تک منشیات کے استعمال کے کو رواج اور بڑھا وادینے والے اسباب ومحرکات کا خاتمہ نہیں کیا جائیگا،اس کے سد باب کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک اس مسئلے کو کنڑول نہیں کیا جا سکتا اور جب تک زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران بالخصوص علمائے کرام وغیرہ منبرومحراب سے منشیات کی روک تھام کیلئے سنجیدہ کردار ادا نہیں کریں گے اس وقت تک اس سنگین صورت حال پر قابو پانا مشکل ہے۔حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ منشیات کی روک تھام کیلئے مستقل بنیادوں پر پالیسی وضع کرے، دور رس نتائج واثرات کے حامل اقدامات اٹھائے او رمنشیات کی کثرت کے اصل اسباب کے تدارک کی فکر کرے اور محض وعظ وتلقین پر اکتفا نہ کرے، بلکہ سخت اقدامات اٹھائے۔والدین اور بچوں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اور نگرانی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور ان دینی تعلیمات، بالخصوص منشیات کے استعمال کے نقصانات وعواقب سے ضرور آگاہ کریں۔میڈیا اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد بھی اس سیلاب بلاخیز کو روکنے کیلئے اپنی اور اپنے ذرائع ابلاغ کی حیثیت کو مکمل طور پر استعمال کریں۔بچوںکا کردار اور ان کا مستقبل ان اداروں اور اساتذہ کے پاس امانت ہوتا ہے، وہ اس کی مکمل پاسبانی کا اہتمام کریں اور کوئی ایسا چور دروازہ باقی نہ رہنے دیں جہاں سے کسی کے بچے یا بچی کو نشے کی لت پڑ سکے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔