صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ 18 ستمبر 2020 

میرا حجاب میرا وقار

رعنا اختر | جمعرات ستمبر 2020 

اسلام دین فطرت ہے جو ہمیشہ اپنے ماننے والوں کی اصلاح چاہتا ہے ۔ اسلام نے انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو وضاحت کیساتھ نہ صرف بیان کیا بلکہ نبی کریم صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو بطور عملی نمونہ پیش کیا ہے ۔ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو عفت و عصمت سے زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ ایک مسلمان عورت کیلئے پاکدامن ہونے کا مطلب یہ ہے وہ تمام شرعی حدود کو تھامے رکھے تاکہ وہ موجودہ شر سے بچی رہے ۔
اسلام نے پردے کی ضرورت پہ واضح روشنی ڈالی ہے اسلام میں پردے کا حکم بار بار دیا گیا ہے ۔ جو نہ صرف عورتوں کیلئے بلکہ مردوں پر بھی پردے کہ شرعی احکام واضح کیے ہیں ۔
اسلام برائی سے جہاں روکتا ہے وہاں برائی پیدا کرنے والے اقدام کی بھی نفی کرتا ہے ۔
برائی ایک ایسا فعل ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ اور برائی پیدا کرنے والے کام معاشرے کو نہ صرف غلاظت کی طرف دھکیل دیتے ہیں بلکہ اس راستے سے گزرنے والے انسان کو بھی کیچڑ آلود کر دیتے ہیں ۔
2004میں جب فرانس میں حجاب کی پابندی کا قانون منظور ہوا تو عالمی اسلامی تحریک کے اجتماع میں امت مسلمہ کے جید عالم دین مفکر اسلام عالمہ یوسف قرضاوی کی قیادت میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہر سال چار ستمبر کو یوم حجاب منایا جائے گا ، اور اسی سال اس کا آغاز ہوا ۔ امریکہ کے مشہور تھنک ٹینک ریسرچ پیو سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سات مسلم اکثریتی ممالک پاکستان ، مصر ،لبنان ، سعودی عرب ، عراق ، ترکی اور تیونس میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے اٹھانوے فیصد افراد گھر سے باہر نکلتے وقت عورت کو کسی نہ کسی صورت میں پردے میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ دو فیصد افراد عورت کے ننگے سر نکلنے کے حامی ہیں ۔ انہی لوگوں کی تعداد میں سعودیہ میں تین فیصد ، عراق میں چار فیصد، مصر میں چار فیصد ، تیونس میں پندرہ فیصد ، ترکی میں بتیس اور لبنان میں سب سے زیادہ انچاس فیصد ہیں ۔ 
لیکن ہمارے میڈیا نے اسے اگنور کر دیا ہے تاکہ ان کی انڈسٹری بند نہ ہو جائے ۔ ان کے نزدیک عورت پیسہ کمانے والا ایک کھلونا ہے ۔ میڈیا اگر اتنا ہی عورت کے حقوق کی پاسداری کا علمبردار ہے ، اسے حق دلاتا ہے ، اتنا ہی وفادار ہے تو اسے چاہیے عورت کو کسی بھی جگہ استعمال نہ کرے ۔ ایک کمرشل سے لیکر نیوز ہیڈلائنز تک عورت کو سامنے رکھا جاتا ہے ۔
ہمارے مارننگ شو سے لیکر ڈراموں تک ایسے ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں کہ انسان دیکھ کر دھنگ رہ جاتا ہے ۔ ٹی وی شو دیکھنے والے کی نظر میں حیا نہیں ہوتی ۔ اگر وہ سارے دن ایسے مناظر دیکھتا ہے جو اس کے نفس کو ابھارتے ہیں ۔ پھر ہم کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کی ننھی کلیاں محفوظ رہے گی ۔ بے حیائی شیطان کا ایک جال ہے ۔ نجانے کتنی ہی قومیں بے حیائی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئی ہیں ۔ نا چاہتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے کے قدم اس تباہی و بربادی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں ۔ اسلام نے شیطان کے ان حربوں سے بندہ مومن کو محفوظ رکھنے کیلئے حیا اور پردے کا حکم دیا ہے ۔
اسلام نے پردے کو جہاں عورتوں پہ لازم ملزوم قرار دیا ہے وہاں مردوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ عورت اپنی زینت کو چھپائے اور مرد اپنی نگاہ نیچی رکھے ۔
زمانہ جاہلیت میں برائیوں کی جڑ عورت کا بے پردہ ہونا تھا ۔ عورتیں بنتی سنورتی اور بے درک گھروں سے باہر نکلتی تھی ۔ اسلام کی آمد ہوئی اور تمام برائیوں کا خاتمہ ہونے لگا ۔ جہاں شراب نوشی ، جھوٹ ،چوری کی ممانت کی گئی وہاں پردہ کرنے کی بھی تلقین کی گئی ۔ 
سورہ احزاب میں عورتوں کے پردے کو واضح احکامات جاری کیے گے ۔
"اے پیغمبر اپنی عورتوں سے کہہ دو جب وہ باہر نکلا کرے تو اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر اوڑھ لیا کرے یہ امر ان کیلئے موجب شناخت ہو گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے " جونہی یہ آیت نازل ہوئی عورتوں نے خود کو ڈھانپنا شروع کر دیا ۔
عورت کا بے مقصد گھروں سے نکلنا بند ہو گیا ۔ چہرے کو ڈھانپنے کیساتھ ایسی چیزوں کا استعمال ممنوع کر دیا گیا جو کسی غیر محرم کو عورت کی طرف متوجہ کرتی تھی ۔
جیسا کہ خوشبو اور ایسا زیور جو آواز پیدا کرے ۔ اسلام نے بے شمار واقعات بیان کیے ہے جس سے پردے کی اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے ۔ لیکن اب کے معاشرے کی بات کی جائے تو جہاں معاشرہ کو بہت سی برائیوں نے جکڑا ہیں اس میں ایک عورتوں کا بے پردہ ہونا بھی شامل ہے ۔
بے پردگی کو فیشن کا نام دیا جا چکا ہے جو کہ دن بدن ہمارے معاشرے کی عورتوں میں مقبول ترین ہوتا جا رہا ہے ۔ آئے دن کپڑوں کے نت نئے ڈیزائن جہاں اسلام سے ہمیں دور کرتے جا رہے وہاں ہمارے معاشرے کو جہنم کی آگ کی طرف مائل کر رہے ہیں ۔
اسلام نے مرد ، عورت کا نا محرم سے بات کرنا کیا دیکھنا بھی ممنوع قرار دیا ہے ۔ لیکن جدید دور کے علمبردار اس تال میل کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔
مغرب کی طرف نظر دورائے تو وہاں عورت اک عام سی چیز ،محض اک کھلونا سمجھا جاتا ہے ۔ مغرب میں عورت ننگے سر اور عریہ لباس میں ملبوس ہو کر اپنے معاشی اور خانگی فرائض سر انجام دیتی نظر آتی ہیں ۔ 
دراصل پردہ عورت کی عفت و عصمت کو محفوظ بنانے کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔ 
دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں بھی عورتیں حجاب کو ترجیح دیتیں ہیں ۔ جس میں ترکی ، ایران ، عراق ، سعودیہ عرب، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں ۔
پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن افسوس سے کہنا پر رہا ہے ۔ ہمارے معاشرے نے اسلامی روایات کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔
میڈیا نے رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی ہے بیشتر پروگرامز میں عورتوں کا سر ننگا ، ڈوپٹہ کا سر کیساتھ ساتھ کندھے سے بھی غائب ہو جانا ، بے ڈھنگا لباس پہننا یہ اب نہ صرف ٹیلی ویژن پروگرامز میں بلکہ ہمارے گھروں میں بھی اک رواج کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہے ۔
ہمیں اپنے معاشرے کو اس دلدل سے نکالنا ہو گا اسلام کے سنہری اصولوں کو اپنا کر ہم اس دلدل سے نکل سکتے ہیں ۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں لانا ہو گا ۔ اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن کے ایسے پروگرام کا انتخاب کرنا ہو گا جو اسلام کے عین مطابق ہو اپنے بچوں کو مطالعہ کی عادت ڈالنی ہو گئی ۔ جس میں سرفرہست قرآن پاک کا بمعہ ترجمہ سیکھانا ہو گا ۔
اپنی بچیوں کو بچپن سے ہی ایسا لباس پہنانے کی عادت ڈالنی ہو گی جو عین شریعت کے مطابق ہو اور اسی لباس کو بچیوں کی زندگی کا معمول بنانا ہو گا تاکہ انہیں اپنی بڑھتی عمر کیساتھ ساتھ اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق گزارنے میں کوفت محسوس نہ ہو ۔ ہو سکے تو اپنی بچیوں کو پورے جسم کا پردہ کرنا سکھایا جائے جس میں ہاتھ منہ کہ ساتھ بڑی سی چادر سے جسم چھپانے کی تلقین کی جائے ۔ اگر کوئی بچی پردہ کرتی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ پردہ جدیدیت ہے نہ کہ قدامت پسندی یہ انسانی شعور کی عمدہ مثال ہے ۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔