صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ 18 ستمبر 2020 

قلم دوست دوستوں کیساتھ فیاض الحسن چوہان کی ملاقات

عمران امین | جمعرات ستمبر 2020 

ابتداًہر کام میں الجھنیں اُور رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں ایسے میں ہمت ہار جانے والے زیادہ دیر تک اپنے قدموں پر کھڑے نہیں رہتے مگر جن کے شوق زندہ اُور ہمتیں جوان ہوتی ہیں وہ تمام مشکلات پر قابو پا کر آگے بڑھتے رہتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر لکھنے پڑھنے کی صلاحیت کیساتھ ساتھ فکرو شعور کی دولت بھی انسان کو میسرآ جائے تو اُس کے کاموں میں نکھار اُور تحریر و تقریر میں بتدریج پختگی پیدا ہوتی جاتی ہے اُور پھر ریاضت سے اس راستے کے نشیب فراز پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔محترم ایثار رانا ایک ایسی ہی شخصیت کے مالک ہیں کہ جنہوں نے زیست کی تلخیوں کو بھی ہنس کر سہا اُور اُداسیوں کی شاموں میں بھی نئے گیت گنگنائے۔اُن کی مثال ایک ایسے برگد کی سی ہے جس کے سایے سے ایک نسل مستفید ہوئی اُور دوسری نسل استفادہ اُٹھا رہی ہے۔ایثار رانانے اپنے ساتھیوںکی مستقل تعلیم و تربیت کیلئے ایک پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا جہاں قلم کی عزت وآبرو کے پاسداروں کی ایک فوج تیارہے۔قلم کی طاقت اُور خیالات کی فراوانی سے صفحے کو مختلف رنگوں سے مزین کرنے والی اس فوج کیلئے ''قلم دوست'' کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی۔''قلم دوست '' کے زیر اہتمام سارا سال مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کا مقصد ملک کی نامور اُور نابغہ روزگار شخصیات کو مدعو کر کے اُن کے خیالات سے آگاہی حاصل کرنا ہوتا ہے۔پچھلے دنوں بھی صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کیساتھ ''قلم دوست'' کے چیئرمین ایثار رانانے لنچ پر ایک ملاقات کا ہتمام اپنے گھرپر کیا۔ اہل علم و دانش افراد جن میں ندیم نظر،اعجاز حفیظ خان،شاہ نواز رانا، ناصف اعوان،عبدالستار اعوان،اختر سندھو اُور دیگر کیساتھ راقم بھی شامل تھا ۔ شاندار کھانے کے بعد فیاض الحسن چوہان نے باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز نوجوانی میں ہی کر دیا تھا۔اُن کی سیاسی زندگی میں زبردست اُتار چڑھائو آئے مگر وہ ثابت قدمی سے اپنے مقصد کے حصول کیلئے کھڑے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار اُور اپنے قائد عمران خان کے مشن سے لبریزوہ آج بھی پی ٹی آئی کے نظریات پر سختی سے قائم ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ آل شریف اُور آل زرداری سمیت دیگر سیاسی اپوزیشن پارٹیاں دراصل ''لوٹ مار ایسوسی ایشنز'' ہیں اُور اب احتساب کے نام سے خوفزدہ ہو کر ''بازی گروں اُور شوبازوں'' نے ''مال بچائو، آل بچائو اُور کھا ل بچائو'' کے تحت''اے پی سی ڈرامہ'' رچانے کا ارادہ کیا ہے۔

نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب شریف خاندان ساری دنیا میں ذلت ورسوائی کا سامنا کرتا رہے گا کیونکہ ''جو بویا تھا اُس کے کاٹنے کا وقت آگیا ہے''۔پی ٹی آئی حکومت نواز شریف کو پاکستان لانے میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اُور عوام جلد ہی خوشخبری سنیں گے۔نواز شریف کی لندن روانگی پر بات کرتے ہوئے فیاض چوہان نے کہا کہ وہ عدالت کا فیصلہ تھا نیزعدلیہ کے کہنے پر ایک وزیر اعظم کیسے کسی بھی بیمارانسان کی زندگی کی ضمانت دے سکتا تھا؟۔انہوں نے اقرار کیا کہ اُس نازک موقع پر حکومت سے بھی کہیں نہ کہیں کوتائی ہوئی۔فیاض چوہان نے باتوں باتوں میں ایک قصہ بھی سنایا۔انہوں نے بتایا کہ جب پی ٹی آئی اپوزیشن میں تھی تو بحیثیت سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی مجھے اکثر ٹی وی کے ٹاک شوز میں بلایا جاتا تھا جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ میرا ایک الگ سا سٹائل ہے چنانچہ لوگ میرے انداز گفتگو اُورنئی نئی اصلاحات سے محظوظ ہونے لگے۔میری کوشش ہوتی ہے کہ مخالف کو کم بولنے دوں اُور اُس کو میں اپنی مرضی کے میدان میں لے کر آئو۔انہی دنوں مجھے فون آیا کہ آپ فیاض چوہان بول رہے ہیں؟۔میں نے کہا ''جی بول رہا ہوں''۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ وہ فیصل آباد سے سابق گورنر میاں اظہر کے بھائی میاں الیاس بول رہے ہیں۔تعارف کے بعد میاں صاحب کی جانب سے میری تعریفیں شروع ہو گئیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ میرا ہر شو دیکھتے ہیں۔اُس دن کے بعد سے میاں الیاس روزانہ رات کوفون کر کے شوز میں کی گئی میری گفتگو پر بات چیت کرتے۔ ایک بات وہ مجھے روز انہ کہتے ''پتر اپنا سٹائل نہ چھڈی،تیرا سٹائل وکھرا تے تگڑااے'' ۔ کافی ماہ بعد ایک دن میاں صاحب کے انتقال کی خبر آگئی۔
فیاض چوہان نے بتایا کہ میاں الیاس صاحب سے اگرچہ کبھی ملاقات تو نہ ہو سکی مگر میں اُن کی ہدایت پر آج بھی قائم ہوں''پتر اپنا سٹائل نہ چھڈی،تیرا سٹائل وکھرا تے تگڑا اے''۔اس بات کو سُن کر حاضرین محفل نے خوب لطف اُٹھایا۔پی ٹی آئی کی کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے جاری مہم کے دور رس نتائج نہ نکلنے پر فیاض چوہان نے بتایا کہ ماضی میں ملک کی بھاگ دوڑ مافیاز کے ہاتھوں میں رہی ہے ۔موجودہ حکومت ان مافیاز سے لڑ رہی ہے مگر یاد رہے کہ یہ جنگ چند روزہ نہیں بلکہ ایک لمبی جنگ ہے جس میںحکمت و بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے جبکہ کوئی بھی جذباتی فیصلہ ملکی سالمیت کیخلاف جا سکتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان اپنے منشور کی کامیابی کیلئے پُر عزم ہیں اُور وہ ایک دن مافیاز کو بے نقاب کر کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کریں گے۔کڑے احتساب کے راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دلچسپ انداز میں کہا کہ جب وہ منتخب ہوئے تو بہت پرعزم تھے کہ اپنے علاقے میںناجائز تجاوزات اُور کرپٹ مافیاز کو پنپنے نہیں دیں گے جبکہ زمینی حقائق بالکل مختلف تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے مایوس ہونے کی بجائے جذباتی پن سے نکل کر زمینی ھقائق کو مد نظر رکھ کرجب آہستہ آہستہ اقدامات اُٹھائے تو مقصدپورا ہوتا گیا۔مزاحیہ انداز میںکانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے فیاض چوہان نے کہا ''اے ملک چوراں واستے جنت اے ،تے شریف بندے واستے دوزخ''۔ وزیر صاحب کی اس برجستہ جملے پر سب اہل محفل مسکرا دئیے۔حاضرین محفل نے وزیر صاحب کی گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان کے مشہور فقرے ''پاکستانیوں مصیبتوں میں گھبرانا نہیں'' کا عنصر نمایاں محسوس کیا ۔اہل قلم حضرات کے اکثرسخت سوالات کے جواب میں فیاض چوہان انہیں صبر اُورمزید انتظار کا کہتے رہے جس پر سب لکھاری حضرات احتراماً خاموش رہے۔ آخر میں وزیر صاحب نے سب افراد کیساتھ فوٹوسیشن کیا ۔فیاض چوہان نے جاتے ہوئے ایثار رانا اُور اُن کے بھائی شاہ نواز راناکا ایک اچھی نشست کے انعقاد پر شکریہ بھی ادا کیا۔مزیدار بات یہ ہے کہ فیاض چوہان دوران گفتگو برابر یہ کہتے رہے کہ چونکہ یہ ایک غیر سیاسی محفل  ہے لہذا گفتگو بھی آف دی ریکارڈ ہوگی چنانچہ کوئی بھی ویڈیوریکارڈنگ نہ کرے۔غالب امکان ہے کہ یہ ہدایت نامہ TIK TOK GIRLS کی طرف سے صوبائی وزیر فیاض چوہان کو ماضی میںسکھائے گئے سبق کا نتیجہ تھا۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔