صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ 18 ستمبر 2020 

اِک قرضِ کہن کی ادا یگی

محمد دانیال کلاچوی | جمعرات ستمبر 2020 

وہ بوڑھا آسمان گواہ ہے اور یہ افتاب ومھتاب تصدیق کررہیہیں۔کہ دین کی نعمت ہر زمانے میں انسان کو دوہنی ذرا ع سے پہنچی ہے۔جن میں ایک کلام اللّٰلہ ہے اور دوسرا رجال اللّٰلہ یعنی انبیا کرام علیہ السلام کی شخصیتں ہیں ۔ یہ دونوں ایسے لازم وملزوم ہیں۔ کہ ان میں سے کسی کو کسی سے الگ کرکے نہ تو انسان کو کھبی دین کا صحیح فھم نصیب ہوسکا ہے اور نہ ہی وہ ہدایت سے بہرہ یاب ہو سکا ہے کتاب کو نبی سے الگ کر دیں تو وہ ایک کشتی ہے نا خدا کے بغیر جسے لیکر مسافر زندگی کے سمندر میں کتنا ہی بھٹکتا پھرے ساحل فلاح پر لنگر انداز نہیں ہو سکتا اور نبی کو کتا ب سے الگ کر دیں تو خدا کو پا نے کی بجاے انسان نا خدا کو ہی خدا سمجھ بیٹھتا ہے یہ دونوں نتیجے پچھلی اقوام بھگت چکی ہیں ۔ 

کتاب اللّٰلہ کو نبی کے ارشادات کی روشنی میں سمجھنے کیلئے احادیث نبویہ کا گہرا فھم عمیق مطالعہ اور مضبوط ادراک حاصل کرنا ضروری ہے ۔جو حدیث کے کتابوں کے مطالعہ سے ملتا ہے ۔ 
ان احادیث کی کتابوں میں صحیح مسلم کو جو تفوق عظمت اور انفرِادیت حاصل ہے ۔ وہ علم حدیث کے کسی طالب علم سے پوشیدہ نہیں صحیح مسلم کی نمایاں ترین خصوصیت یہ ہیکہ اس میں امام مسلم صحیح مرفوع احادیت انتہائی حسن ترتیب کیساتھ یکجا ایک جگہ ذکر کرتے ہیں ۔ اس لیے صحیح مسلم میں حدیث کی تلاش انتہای آسان ہے اس میں ہر مسلہ کے متعلق تمام احادیث اکھٹے مل جاتی ہیں ۔ جس سے مسلہ خوب نکھر کر سامنے آتا ہے۔ عربی زبان میں صحیح مسلم کی خدمت مختلف زاویوں سے متنوع اسالیب میں روز تصنیف سے جاری ہے۔ البتہ اردو زبان کا دامن اب تک صحیح مسلم کی ایسی تفصیلی تحقتقی ارو تدریسی شرح سے خالی تھا ۔ جس میں متن اور سند دونوں سے بحث کی گ ہو یہ شناورانِ اردو پر ایک قدیم قرض تھا اور اردو کے نام لیواں کیلئے عظیم چیلنچ تھا۔مگر عجیب بات یہ ہے ۔ کہ کتاب پر کتاب چھپتی رہی مکتبہ پر مکتبہ بنتا رہا ایک سے بڑھ کر ایک صاحب قلم سامنے آتا رہا مگر صحیح مسلم کی اردو شرح کسی باتوفیق ،بلند ہمت اور حوصلہ مند انسان کی راہ تکتی رہی آخر ارحم الرحمن کو اردو زبان کی حرمان پر رحم آہی گیا اور علما دیو بند کے عاشق اور دارالعلوم حقانیہ کے فاضل اور جامعہ ابوہریرہنوشہرہ کے بانی و مہتمم مولانا عبدالقیوم حقانی نے تیشہ ھمت اٹھا ہی لیا اور کوہِ تحقیق کا سینہ چیر کر مفاہیم حدیث کا جوئے شیر نکال لائے۔ شرح کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے آپ کے نصف صدی کے تدریسی تجربات ہیں ۔کوی جملہ سطحی نہیں ہے کوی بات بے حوالہ نہیں ہے کوی لائے بھیڑ چال کا نتیجہ نہیں بلکہ ہر لفظ کا انتخاب آپ نے سوچ سمجھ سے کیا ہے۔اس شرح کا مہنج یہ ہے کہ سب سے پہلے متن حدیث کے عربی الفاظ صحت کے التزام اور اعراب کی درستگی کے اہتمام کیساتھ نقل کرتے

ہیں ۔ پھر سندکی سلیس، رواں اور با محاورہ ترجمہ کرتیہیں جو حدیث کے مفاہیم کو حاوی ہوتاہے ۔پھر اس کا خصوصیات وامتیازات ذکر کرتے ہیں۔ اور روا کے حالات تفضیل کیساتھ بیان کرتے ہیں۔ مشکل الفاظ اور جملوں کی تشریح کرتے ہیں۔حدیث کا مفہوم ومصداق واضح کرتیہیں ۔ حدیث میں جن قبیلوں،شہروں،بستیوں، وادیوں،گھاٹیوں، قلعوں، ہتھیاروں،ناپ تول کے پیمانوں وغیرہ کا ذکر آتا ہے ان کا جامع تعارف اور درست تلفظ بیان کر تے ہیں ۔ اگر کوی شہر،بستی یا قریہ آج بھی موجود ہے ۔تواس کا جدید محل وقوع بتاتے ہیں۔اگر نام بدل گیاہے تو نیانام ذکرکرتیہیں پھرفقہا کرام کے مذاہب اور ان کے دلال کا باحوالہ تذکرہ کرتیہیں۔مختلف اقوال ومذاہب کاحوالہ دیتیہیں ۔ راجع قول کی وجوہ ترجیع بیان کرتے ہیں ۔ پھر حدیث سے مستنبط لطاف اور فواد ذکر کرتے ہیں ۔اور موجودہ دور کے شخصی ،خانگی،معاشرتی، ملی،قومی فکری اور نظریاتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری احکام ومسال کی طرف بھی تو جہ دلاتے ہیں ۔مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات بھی دیتے ہیں۔قدیم وجدید فتنوں، لادینی جماعتوں اور گمراہ کن افکار ونظریات کا تعارف اور پھرمدلل علمی اور تحقیقمی انداز میں ان کا تعاقب اور تردید بھی کرتے ہیں ۔متقدمین ومتاخرین کیساتھ ماضی قریب کے اکابرین اور زمانہ حال کے معاصرین کی آرا بڑی فراخدلی سے پیشں کرتے ہیں ۔ اور نہایت وسعت ظرفی کیساتھ ان کی کتابوں کے حوالیدیتے ہیں

۔ بایں ہمہ اپنی لکھی ہوی کسی بات کو حرف آخر قرار نہیں دیتے بلکہ تحقیق کے در یچے کھلے رکھتے ہیں۔ امہ مذاہب اور مختلف مسالک کے سرِخیلو ں کا تذکرہ انتہای عزت واحترام اور باوقار الفاط میں کرتے ہیں ۔ محدثین احناف کی آرا کو تر جیح دیتے ہوئے دیگر حضرات کے آرا کو بھی یکسر ٹھکراتے نہیں بلکہ ان کا بھی حتی الامکان صحیح محل بتاتے ہیں ۔حدیث کو حنفی نہیں بناتے بلکہ حقیت کو حدیث سے ثابت کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ تحریر کی شگفتگی تازگی اور رعنای کو ماند پڑنے نہیں دیتے طرز اظہار کے تنوع، عنوانات کی جازبیت اور بلاغت کی نضمگی سے قارین کے ذھنی نشاط وانساط کا انتظام کرتے ہیں ۔ یقینا اردو ادب کا سراپنے معاصر زبانوں کے لٹر یچر کے مقابلے میں اونچا ہو گیا ہوگا سرخاب کا جوپر اس کے کلاہِ افتخار میں لگا ہے۔ وہ ہر تمغہ امتیاز سے زیادہ باوقار ہے اللّٰلہ تعالی اس شرح کوتاقیامت پڑھنے والوں کیلئے ذریعہ ہدایت اور لکھنے والوں کیلیے وسیلہ نجات بنادے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔