صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ 18 ستمبر 2020 

نثاراورجانثار

محمد ناصر اقبال | جمعرات ستمبر 2020 

جومعاشرہ بار بار چوروں کومنتخب کرکے اقتدار کی باگ ڈوران کے سپرد اورپھر انہیں احتساب سے بچانے کیلئے نیب کی عمارت پرپتھرائوکرے۔جہاں عدالت عظمیٰ پرحملے میں ملوث لوگ پی ٹی وی کی عمارت پرحملہ کرنیوالے افراد کو قانون شکنی کاطعنہ اوراخلاقیات کادرس دیں۔جس معاشرے میں لوگ اپنے پیاروں کاجنازہ اٹھائے ہوئے'' زندہ ہے بھٹو '' کانعرہ لگاتے اورساتھ ساتھ اپنی محرومیوں کی میت پرماتم کرتے ہوں۔جومعاشرہ مٹھی بھر اناڑیوں اوربزداروں کے ہاتھوں اپنے مادروطن کوتختہ مشق بنے خاموشی سے دیکھتا رہے۔جس معاشرے میں جمہوریت کی آڑ میں'' لوگ'' شخصیت پرستی کے'' روگ'' کاشکارہوں۔جہاں متعدد بوگس ڈگریوں والے اورانگوٹھاچھاپ منتخب ایوانوں میں براجمان ہوں اس معاشرے کوناخواندگی اورپسماندگی سے نجات کس طرح ملے گی ۔وہ معاشرہ جہاں مزدوراور نادارومفلس لوگ سرمایہ داروں کواپناقائداورنجات دہندہ سمجھ کراپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہوں ۔جہاں اشرافیہ کے سرخیل غریبوں کوانقلاب کے نام سے ڈراتے ہوں۔وہ معاشرہ جہاں مائوں کواپنے بچے فروخت کرتے ہوئے ندامت محسوس نہ ہو ۔جس معاشرے کی چندگمراہ بیٹیاں کسی نامحرم محبوب کیلئے محرم رشتوں اورقدروںکواپنے پیروں تلے رونددیں۔جس معاشرے کاعام آدمی مہنگائی کابوجھ سہتا اورزندگی بھر اندر اندر سلگتارہے۔ جس معاشرے میں کیمیکل سے دودھ بنتااورملاوٹ زدہ دودھ بکتا ہو۔جہاں جعلی ادویات تیاراورفروخت ہوتی ہوں ۔جس معاشرے کے باریش ٹریڈرز ضروریات زندگی کی مصنوعی قلت پیدا کریں اوراس منفعت بخش تجارت قراردیں ۔جس معاشرے میں پتنگ سازی،پتنگ فروشی اورپتنگ بازی کرنیوالے خاموش قاتل دندناتے ہوں اورہمسایوں سمیت شہریوں کو ان درندوںکی شکایات کرنے کی توفیق یاہمت نہ ہو۔جہاں حلال گوشت کے نام پرمردارمرغیاں اوربیمار جانورفروخت ہوتے ہوں۔جس معاشرے میں کوئی مسجداورمدرسہ بھی چوروں سے محفوظ نہ ہو۔جس اسلامی معاشرے میں منشیات اور شراب وشباب فروشی کیساتھ ساتھ شراب نوشی جبکہ ہر جابرسلطان کے ڈرسے خاموشی عام ہو۔جہاں انسان کی صورت میں درندے قبور سے نکال کر مردوں اورقوم کے کمزور بیٹوں اوربیٹیوں کی آبروریزی کرتے ہوں۔جس معاشرے کے کئی امام مسجدکاتقدس پامال کر تے ہوں۔جہاں قاتل ،زانی ،شرابی،رشوت خوراورمنشیات فروش جلوس کیساتھ عدالت میں آتے ہوں۔جس معاشرہ میں ایک طبقہ شہادت کے نام پر اپنے ہاتھوں میں قرآن مجیدتھام کرجھوٹ بولتا ہو۔جہاں مٹھی بھر مسیحا کسی کی بیماری یامجبوری کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے گردے چوری کرکے فروخت کرتے ہوں ۔وہ معاشرہ جہاں مافیازکاراج اورمنافقت کارواج ہو ۔جس معاشرے میںحقوق شعور نہیں شورمچانے کی بنیادپرملتے ہوںوہاں مٹھی بھربدزبان عناصرکا پولیس کوبدعنوان کہنااورگالیاں دینا انصاف نہیں۔دوسرے محکموں کی طرح پولیس میں بھی کئی باوردی چور ہیںکیونکہ یہ ''چورمعاشرے'' کی پولیس ہے تاہم اداروں میں چورہوتے ہیں لیکن کوئی ادارہ چورنہیں ہوتا۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ چور ہے اورپولیس کیخلاف شورمچانے والے زیادہ تر خودچور ہیں۔"بدسے بدنام برا" کامحاورہ پولیس پرصادق آتا ہے ۔1500سے زائدشہداء کی وارث پولیس کاکوئی والی وارث نہیں ،معاشرے کاایک مخصوص طبقہ جس کو پولیس کی ذمہ داریوں، کمزوریوں اورمجبوریوںکااندازہ یاادراک تک نہیں وہ بھی اس فورس کوگالی دینااپناحق سمجھتا ہے۔حالیہ عاشورہ کے دوران ہماری فرض شناس پولیس نے بالعموم ملک بھر میں اوربالخصوص لاہورمیں امن وامان یقینی بنا نے کیلئے قابل قدربلکہ قابل رشک خدمات انجام دی ہیں لیکن پولیس کی اس کامیابی وکامرانی کواس شدت سے نہیں سراہاگیا جس شدت سے اس فورس پرتنقید بلکہ اس کی توہین کی جاتی ہے۔اگرخدانخواستہ عاشورہ کے دوران کوئی انہونی ہوجاتی تو اس وقت چینی چور وں،آٹاچوروں،جوتاچوروں،بجلی چوروں اورقومی چوروںکی توپوں کارخ پولیس کی طرف ہوتا۔ 
پولیس کاہرآفیسر اوراہلکارروزانہ اوربالخصوص عاشورہ کے ایام میںاپنے اپنے گھر سے وردی نہیں کفن پہن کرنکلتا ہے،وہ ڈیوٹی پرجاتے وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہیں اورجاتے ہوئے انہیں اپنے بچوںکو " اللّٰلہ حافظ'' کہنا بھی نصیب نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس وقت سورہے ہوتے ہیں ۔ان میں سے کئی زندہ ڈیوٹی پر جانیوالے قومی پرچم اورتابوت میں اپنے پیاروں کے پاس واپس آتے ہیں۔اپنے محافظ اداروں کامیڈیا ٹرائل کرنیوالے معاشرے منافق اورفاسق ہوتے ہیں،اس قسم کے معاشروں پرتاریخ کوبھی رحم نہیں آتا ۔
لاہورزندہ دل ہونے کیساتھ ساتھ ایک حساس شہر ہے ، اس کے زیادہ تر شہری سیاسی طورپربیدار جبکہ باقی سیاست اور سیاسی قیادت سے بیزار ہیں۔یوں توسیاست کے سینے میںدل نہیں دھڑکتا لیکن لاہور کوقومی سیاست کا قلب کہنا بیجا نہیں ہوگا۔اس شہرمیں حضرت داتا علی ہجویری  اور حضرت محمد اقبال سمیت کئی اولیا کے مزارات ،باغات اورتاریخی مقامات ہیں۔اس تاریخی شہرمیں سال بھر مذہبی ،سیاسی ،سماجی اورثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اسلئے دوسرے شہروں کے مقابلے میں جہاں لاہور کی فرض شناس پولیس اورسول انتظامیہ پر انتہائی دبائوہوتا ہے وہاں ان سے توقعات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں ۔ماہ محرم میں لاہورمزید حساس ہوجاتا ہے،چوہنگ اورشاہ پورکانجرہ میں تنائوکاماحول تھا

جہاں ہردلعزیز سیاسی وسماجی شخصیت ملک شکیل اعوان نے مقامی شہریوں کی مددسے رضاکارانہ طورپر امن وامان یقینی بنایا۔ظاہر ہے جہاں آبادی زیادہ ہوگی وہاں فسادی بھی زیادہ ہوں گے،لاہورمیں امن وامان برقراررکھنا اورشرپسندعناصر کولگام ڈالنا ایک بڑاچیلنج ہے ،کوئی کاہل اورنااہل آفیسر لاہورپولیس کی کمانڈ نہیں کرسکتا۔لاہور کیلئے مستعد،نیک نیت اورنیک نام ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمدخان اپنے کمانڈر شعیب دستگیر کابہترین حسن انتخاب ہیں ۔خوش قسمتی سے امسال بھی ماہ محرم کے دوران ذوالجناح کے مرکزی جلوس کی سکیورٹی کے انتظامات ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمدخان اوران کیساتھ ایس ایس پی آپریشنز فیصل شہزاد،سی ٹی اوکیپٹن (ر)سیّدحمادعابد،ایس پی سکیورٹی بلال ظفرشیخ،افتخارعاصم کمبوہ،ملک جمیل ظفر، صفدررضاکاظمی، دوست محمد،اکرام اللّٰلہ،ڈاکٹرتنویررضا،عاطف معراج،ملک یعقوب اعوان،حسن عزیز، کامران زمان،مستحسن شاہ، عمرفاروق بلوچ ،ذوالفقارعلی بٹ،فاروق اصغر اعوان،عبدالواحد،میاں لیاقت،محمدعتیق ڈوگر،بابراشرف،اسدعباس،عمران پڈانہ اورمحمدبابراقبال خان دیکھ رہے تھے ۔الحمدللہ یوم عاشورامن وامان سے گزر گیا اورذوالجناح کامرکزی جلوس اپنے مقررہ روٹ سے ہوتا ہوا عافیت کیساتھ اختتام پذیر ہوا۔مرکزی جلوس'' نثار''حویلی سے برآمدہواتوآغاز سے انجام تک پولیس کے باوردی جانبازاور ''جانثار'' اس کیساتھ ساتھ کسی سیسہ پلائی دیوار کی طرح چل رہے تھے۔ ان کیلئے فرض منصبی کی بجاآوری عقید ے کی پاسداری سے زیادہ اہم اور مقدم تھی۔اس کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کاکریڈٹ ڈی آئی جی اشفاق احمدخان اوران کے ٹیم ممبرز کوجاتا ہے جوان دس اہم ایام کیلئے مسلسل کئی دنوں سے ہوم ورک کررہے تھے ۔لاہور پولیس نے 2019ء کی طرح2020ء میں بھی مختلف مسالک کیساتھ مذاکرات اوران کے درمیان مکالمے کااہتمام کیا۔ماہ محرم کااحترام یقینی بنانے کیلئے اپناعقیدہ چھوڑونہ دوسرے کاچھیڑو ایک بہترین ضابطہ ہے۔قادروکارساز اللّٰلہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں، کسی انسان کومعبودبرحق کاشریک ٹھہرانا بیشک شر اورشرک ہے،ایساکر نیوالے قابل گرفت اورقرارواقعی سزا کے مستحق ہیں ۔پولیس جہاں ماہ محرم کے دوران امن وآشتی برقراررکھتی ہے وہاں اللّٰلہ تعالیٰ کی ذات اقدس سمیت مقدس ہستیوں کی شان میں ہرزہ سرائی کرنیوالے شیاطین کوبھی شرانگیزی سے روکاجائے ۔
اشفاق احمدخان کی کامیابی کاراز ان کی انکساری اوروضعداری میں پنہاں ہے،ان کی طرح جوآفیسر"ڈائون ٹوارتھ" ہوں انہیں" ٹیک آف" کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اشفاق احمدخان کاایک عزت دار کی طرح اپنے ماتحت آفیسرزاوراہلکاروں کی عزت نفس اورخودداری کابھرپور خیال رکھنا خوش آئند ہے۔راقم نے دسویں محرم کی رات اشفاق احمدخان کو ایک نجی ٹی وی کیساتھ گفتگوکرتے ہوئے دیکھا جس میں وہ ایک فاتح اورپراعتماد کپتان کی طرح ا پنی حالیہ کامیابی کاکریڈٹ اپنے ٹیم ممبرزکودے رہے تھے ،ایساہرکوئی نہیں کرتا۔ اشفاق احمدخان کی آبرومندانہ واپسی سے لاہور پولیس کے مختلف شعبہ جات کا پھر سے فعال ہو ناشہریوں کیلئے نیک فا ل ہے۔اشفاق احمدخان کوایک نیک سیرت ماں سے تربیت ملی ہے اسلئے وہ اپنی فورس کی فلاح جبکہ غلطی کرنیوالے اہلکاروں کی اصلاح کیلئے'' سزائوں'' نہیں بلکہ ''وفائوں'' کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان دنوں لاہورپولیس کے دونوں ونگ آپریشنز اورانوسٹی گیشن پروفیشنل آفیسرزاشفاق احمدخان اورشہزادہ سلطان کی کمانڈ میں ہیں۔ شہزادہ سلطان کااس مقام تک پہنچنا ان کی انتھک محنت اورپیشہ ورانہ مہارت کا ثمر ہے۔شہزادہ سلطان کومنصب ملنا انوسٹی گیشن ونگ کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے،اب اس ونگ میں گھٹن کا ماحو ل نہیں رہا۔
پچھلے سال محرم کے دوران سی سی پی اولاہورکااہم منصب پروفیشنل ،زیرک اورانتھک ایڈیشنل آئی جی بی ا ے ناصر کے پاس تھا جبکہ باصلاحیت محمدنوید ایس ایس پی آپریشنز لاہور کی حیثیت سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق احمدخان کے اہم ٹیم ممبر تھے مگرامسال ایس ایس پی آپریشنز لاہورفیصل شہزاد نے اشفاق احمدخان کی قیادت میں اپنابھرپوراورفعال کرداراداکیا ۔اس بار عاشورہ کے دوران سی سی پی اولاہور کاآفس خالی خالی لگاجبکہ بی اے ناصر جیسی قائدانہ صلاحیتوں کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔لاہورپولیس کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری جبکہ شہریوں کوڈیلیورکرنے کیلئے بی اے ناصر کی دوبارہ سی سی پی اولاہورکی حیثیت سے تقرری ناگزیر ہے۔بی اے ناصر نے پولیس اصلاحات کیلئے جو مواد تیار کیا تھا یقینا وہ بزدار کے اوپرسے گزرگیا ہوگا،پولیس کلچر میں'' تبدیلی'' اس محکمے کے اندر سے آئی گی یہ کسی شعبدہ بازیابزدار کے بس کی بات نہیں۔ پولیس اصلاحات کے سلسلہ میں حاجی حبیب الرحمن، ناصر خان درانی،محمدطاہر،کیپٹن (ر)محمدامین وینس،بی اے ناصر اوراشفاق احمدخان کے تجربات،مشاہدات اور ویژن سے استفادہ کرناہوگا۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔