صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعرات 22 اکتوبر 2020 

گوشت کی زیادتی مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے، طبی ماہرین

ویب ڈیسک | ہفتہ اگست 2020 

کراچی: طبی ماہرین نے عیدالاضحی پر شہریوں کو کم گوشت کھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بسیار خوری ڈائریا، گیسٹرو سمیت میٹابولک ڈیسیز ہارٹ اٹیک، ہائی بلڈ پریشر اور اسٹروک (فالج) کا سبب بنتی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق طبی ماہرین گوشت کی زیادتی (بسیار خوری) کو مختلف بیماریوں کا باعث قرار  دیا ہے اور ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بسیار خوری ڈائریا، گیسٹرو سمیت میٹابولک ڈیسیز ہارٹ اٹیک، ہائی بلڈ پریشر اور اسٹروک (فالج) کا سبب بنتی ہے، جب کہ کھانے میں بے احتیاطی بلڈ پریشر اور دل کے مرض میں مبتلا افراد کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے عباسی شہید اسپتال میں کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر محسن علی عثمانی کا کہنا تھا کہ عیدالاضحی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے تاہم گوشت کے غیر ضروری استعمال سے معدے اور پیٹ کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں، عید قرباں پر گوشت ضرور کھائیں لیکن اس ضمن میں اعتدال اور احتیاطی تدابیر کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔
ڈاکٹر موحسن علی عثمانی کا کہنا تھا کہ گوشت زیادہ دیر رکھ کر نہ کھانے، اچھی طرح دھو کر استعمال کرنے، صحیح پکا ہوا کھانے اور گوشت کے ساتھ سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے مفید ہے جب کہ گوشت کھانے میں بے احتیاطی سے پیٹ کی خرابی اور معدے میں تکلیف ہی نہیں ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ گوشت مناسب مقدار سے زائد کھانے، آدھا کچا کھانے، مصنوعی مصالحوں کا استعمال ڈائریا، گیسٹرو جیسے امراض میں اضافہ کردیتا ہے، اسی لیے عیدالاضحی کے موقع پر اسپتالوں میں معدے کے امراض جیسے گیسٹرو اور ڈائریا کے کیسز میں اضافہ ہوجاتا ہے، صرف عید کے موقع پر ہماری ایمرجنسی میں یومیہ 25 سے 30 مریض روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں جن کی عمر 15 سے 90 سال تک کی ہوتی ہیں۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔