صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعرات اگست 2020 

کورونا سے بچائو، عیدسادگی سے منائو !

شاہد ندیم احمد | منگل 28 جولائی 2020 

عید ایک ایسا مذہبی فریضہ ہے جو نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں مسلمان آباد ہیں، پوری مذہبی عقیدت اور جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ بالخصوص عیدالضحیٰ کے موقع پر سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے حوالے سے خصوصی جوش و خروش دیکھنے میں آتا ہے۔ سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کو سہل بنانے کیلئے ہر سال خصوصی مویشی منڈیوں کا انتظام کیا جاتا رہا ہے، لیکن اِس مرتبہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کے پیشِ نظر مویشی منڈیوں کی تعداد کم سے کم رکھنے اور وہاں حفاظتی تدابیر یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ وزیر اعظم بھی ہدایت دے رہے ہیں کہ عید سادگی سے منائی جائے ،لیکن عیدالاضحی کے قریب آتے ہی بازاروں میں خریداری میں بہتری آنے کیساتھ عوام کا رش بڑھ گیا ہے، بازاروں میں کسی قسم کی احتیاط نہیں کی جا رہی،تاجر خود حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ، نہ ہی گاہکوں کو ٹوکتے ہیں،حالانکہ لاک ڈائون ختم کرتے وقت تاجر تنظیموں کے عہدیدار ہر طرح کی ضمانت اور یقین دہانیاں کرواتے رہے ہیں۔اسی طرح مویشی مارکیٹوں میں بھی ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آرہی ہیں،جبکہ انتظامیہ کے اقدامات کا حال یہ ہے کہ اول تو سرکاری عملہ موجود نہیں،اور اگر کہیںہے تو اپنے فرائض توجہ اور دیانت داری سے انجام نہیں دیے رہا ہے، اسی طرح اب تک شہروں کے اندر عارضی منڈیاں یا گلی کوچوں اور بازاروں میں جانور لئے پھرنے والوں کو بھی روکا نہیں جا سکا۔یوں خدشہ موجود ہے کہ جو ایس ا پیز وبائی امراض کو کنٹرول کرنے والے مرکزی ادارے نے بنا کر جاری کئے ہیں، ان پر قربانی کے تین دِنوں میں بھی عمل مشکل ہو گا ،کیو نکہ ایس او پیز پر عملدر آمد کروانا انتظامیہ کا کام ہے ،مگر انتظامیہ کی لا پرواہی کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت کی تمام تر کاوشوں کے باوجودحوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں۔ 
کورونا وائرس کا پھلائو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عیدالاضحی سادگی سے منائی جائے،کیو نکہ عید الفطر پر لاپروائی کے باعث ہی کورونا کی وبا تیزی سے پھیلی اور اموات میں اضافہ ہوا تھا، ایسی لاپرواہی عیدالاضحی پر نہیں ہونی چاہیئے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بہترین اقدامات کے سبب کورونا کیسزمیں بتدریج کمی آنا، جہاں خوش آئند ہے، وہاں یہ امید بھی بندھتی ہے کہ گراوٹ کا شکار معیشت بھی جلد بہتری کی جانب رواں ہوجائے گی۔ کورونا وبا پر قابو پانے کا کلیدی حل لاک ڈاؤن کو گردانا گیا، جس پر عملدرآمد سے پوری دنیا میں مثبت نتائج سامنے آئے،تاہم جہاں لاک ڈاؤن کورونا کی وبا روکنے میں معاون ثابت ہوا، وہاں معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا محرک بنا ہے، صنعتیں، تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند ہونے سے بیروزگاری کی تیزی سے پھیلتی ہوئی لہر نے نت نئے عوامی مسائل اور مشکل حالات کو جنم دیا ہے۔کرونا سے نبرد آزما حکومتیں اس معاشی گراوٹ کے باعث نئے حل اور طریقے سوچنے پر مجبور ہوگئیں کہ معیشت کو کیسے سنبھالا دیا جائے اور بیروز گاری کے بڑھتے ہوئے طوفان کو کیسے روکا جائے ، اگر ایسا نہ کیا گیا تو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے باعث بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں بے بس ہو جائیں گی۔اس کا ایک حل اسمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت میں سامنے آیا کہ سارے علاقوں کو بند کرنے کے بجائے کورونا سے متاثرہ محدود علاقوں کو بند کرکے بتدریج مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی جائے، اس طرح معاشی پہیہ بھی رواں رہے گا اور عوام کیلئے بھی مسائل پیدا نہیں ہونگے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن کا طریقہ مکمل لاک ڈاؤن سے زیادہ بہتر ثابت ہوا ، لہذا اب اسی طریقے پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا جا رہا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کا طریقہ کار کورونا وبا کیخلاف ایک موثر حکمت عملی ہے ،مگر عوام آئے روز کے لاک ڈائون سے بے زار ہو چکے ہیں ،وہ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے سلوگن کو اپنا کرکورونا سے اتنے بے خوف ہوئے ہیں کہ حکومتی ایس اوپیز کو بھی نظر انداز کرنے لگے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنابجا ہے کہ عیدالفطر پر عوام کی جانب سے ہونے والی لاپروائی کے باعث کرونا کی وبا انتہائی تیزی سے پھیلی' اگر اس موقع پر تاجر اور عوام بے صبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل پیرا ہوتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی اور اسپتالوں میں طبی عملہ دباؤ کا سامنا نہ کررہا ہوتا،لیکن حکومت کو اپنی اور اپنی انتظامیہ کی کو تاہیوں پر بھی نظر ثانی کر نا ہو گی ۔حکو مت کا کام اجلاس میں فیصلے کرنا اور احکامات جاری کرنا ہی نہیں، انتظامیہ کے ذریعے فیصلوں پرعمل در آمد کروانا بھی شامل ہے ۔اگر انتطامیہ نے یونہی حکومتی احکامات کو ہوا میں اُڑانے کی روش اپنائے رکھی توکورونا سے چھٹکارے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا ۔ عیدالاضحی پرعوام کے ذمہ دارانہ رویئے کیساتھ انتظامیہ کو بھی محرک کرنا ضروری ہے،ورنہ حکومت دوبارہ بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہو جائے گی جس کا لامحالہ نقصان معیشت اور عوام دونوں ہی کو پہنچے گا۔ کرونا کیسز میں کمی کے باعث ہی وفاقی وزیر تعلیم نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15ستمبر سے کھولنے کا مژدہ سنایا ہے ،جس سے تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ کیساتھ طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، لیکن
 اگر عیدالاضحی کے موقع پر عوام نے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا اور سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پر لاپروائی کا مظاہرہ جاری رکھاتو یہ معمولی سی ملنے والی خوشی غارت اور ایک بار پھرلاک ڈائون کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس لیے عوام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کورونا سے خود کو بچانے کیلئے عید الاضحی سادگی سے منانا ہو گی،تاہم اس خواہش کی تکمیل پوری ہوتی نظر نہیں آتی ہے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔