صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
منگل اگست 2020 

برزخ میں سکون

امتیازعلی شاکر | منگل 14 جنوری 2020 

 ایک تقریب کے شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے فرمایاکہ سکون کی زندگی قبر میں ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ دنیاوی زندگی آزمائش اورچیلنجزپرمبنی ہے پھربھی خوبصورت زندگی کوسکون سے خالی قرارنہیں دیاجاسکتا،بقول وزیراعظم عمران خان جو سکون کی زندگی ہے وہ صرف قبر میں ہی ہوتی ہے انتہائی عجیب اورناقابل یقین منطق ہے ۔بطورمسلمان ہم سمجھتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں کی جانے والی جدوجہدصرف دنیاوی زندگی کوخوبصورت اورپرسکون بنانے کیلئے نہیں بلکہ قبرکی زندگی جسے برزخی زندگی بھی کہاجاتاہے اورآخروی زندگی یعنی قبروں سے اٹھائے جانے کے بعدوالی زندگی میں بھی آسانیاں پیداکرنے کیلئے کی جاتی ہے ۔یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ دنیاوی زندگی میں احکام الٰہی سے روح گردانی کی جائے ،خلق اللّٰلہ کی حق تلفی کی جائے،سودی نظام کی حمایت کی جائے،ظلم وناانصافی کی تمام حدیں عبورکی جائیں اورپھرقبرمیں پرسکون زندگی کی خواہش بھی کی جائے؟وزیراعظم شائد بھول گئے ہوں گے کہ قبریاآخرت میں ایسی حکومت اور عدلیہ نہیں ہوگی جومجرمان کوسزادینے کی بجائے اُن کےساتھ سیٹلمنٹ کرلیتی ہے۔ہمارے محترم وزیراعظم کیوں بھول جاتے ہیںکہ22کروڑ لوگوں کی تعلیم وتربیت،عقل وشعورایک جیساہے نہ صبروشکرکی توفیق برابراورنہ ہی سب کی امیدیں اس قدرطاقتورہوتی ہیں کہ حالات سے لڑجائیں،بہت سارے لوگ حالات سے تنگ آکرخودکشی کاسوچ رہے ہوتے ہیں ایسے میں وزیراعظم عمران خان کایہ کہناکہ سکون کی زندگی صرف قبر میں ہی ہوتی ہے قیامت خیزمعلوم ہوتاہے۔اہل علم وشعوراچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جب لوگ ناامیدہونے لگتے ہیں تواُن میں سے کمزورارادے والے منشیات کی لت میں مبتلاہوجاتے ہیں یادیگرجرائم پیشہ عناصریہاں تک کہ دہشتگردوں کاآسان شکاربن کرامن کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔محترم وزیراعظم نجانے کیوں انتظامی امورپربات کرنے کی بجائے زیادہ وقت تبلیغ کرتے نظرآتے ہیں۔اہل صبروشکرجانتے ہیں کہ اُمیدیں اپنے حقیقی حاکم خالق،مالک اوررازق سے لگانی ہیںدنیا فانی کے کسی ناقص حاکم انسان سے نہیں۔یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ غربت انسان کوگمراہ کردیتی ہے لہٰذامشکل ترین دورمیں زندگی کیلئے جدجہدکرتے لوگوں میںمایوسی پھیلانے والے عمل یاگفتگوسے گریزکیاجائے توبہترہوگا۔قبر میں سکون کی زندگی میسرآئے گی یاعذاب ملے گااس کافیصلہ کرناہمارے اختیارمیں نہیں۔یہ فیصلہ تواعمال کے مطابق عادل حقیقی اللّٰلہ رب العزت فرمائے گا۔ہمیں اپنی ہستی اوراوقات کے مطابق بات کرنی چاہئے۔اہل علم کے مطابق انسان کی زندگی کی تین اقسام ہیں ۔نمبر1 دنیاوی زندگی جو کہ موت سے ختم ہو جاتی ہے2برزخی زندگی جو موت کے بعد قیامت تک ہے3آخروی زندگی جو کہ لوگوں کے قبروں سے نکلنے کے بعد جنت کی طرف جانا اللّٰلہ تعالی سے ہم اس کا فضل مانگتے ہیں یا پھر آگ کی طرف جانا اس سے اللّٰلہ تعالی اپنی پناہ میں رکھے۔سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد جب گھروالے قبرمیںاتارکرچلے جاتے ہیںاور فرشتے انسان سے قبر میں سوال وجواب سے فارغ ہو جاتے ہیںتب نیک وپرہیزگار اور گناہ گار قبر میں قیامت تک ایک جیسی پرسکون زندگی گزاریں گے یاپھربرابرعذاب میں مبتلارہیں گے؟برزخی زندگی جو کہ انسان کی موت کے بعد سے لے کر دوبارہ اٹھنے تک ہے ۔اہل علم ودانش کاکہناہے کہ برزخی زندگی بھی دنیاوی زندگی کی طرح یا تو نعمتوں والی ہو گی یا پھر سختی وعذاب والی۔ قبرنیک وپرہیزگاروںجن پراللّٰلہ،رسول کی مہربانی ہوگی جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہوگی اورگناہگاروں جواللّٰلہ کے فضل اوررسول اللّٰلہ ﷺکی شفاعت سے محروم رہ گئے اُن کیلئے قبر آگ کے گڑہوں میں سے ایک گڑھا ہو گی۔جس کی ایک مثال یوں ہوسکتی ہے کہ ایک انسان کہتاہے کہ میں نے جان اللّٰلہ کو دینی ہے،عدالت میں فوٹیج ،تمام ثبوت پیش کریں گے،اے این ایف کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بناتا۔فلاں کو منشیات کےساتھ رنگے ہاتھوں پکڑااورپھرفلاں کہتاہے کہاہے کہ اللّٰلہ کوحاضروناظرسمجھ کر، قرآن کوگواہ بناکرکہتاہوں کہ جھوٹ بولوں تومجھ پرخدا کا قہر نازل ہو5بار پنجاب اسمبلی کارکن منتخب ہوااب ایم این اے ہوں۔قرآن پاک کوگواہ بناکرکہتاہوں کہ سیاسی کیریئرمیں کسی منشیات فروش کی سفارش نہیںکی،کبھی کسی منشیات فروش کوسہولت نہیں دی۔جنہوں نے گودام سے 15کلوہیروئن نکال کر مجھے عدالت میں پیش کردیا اُن پرخداکاقہرنازل ہو۔اب ذرہ غورکریں ایک بااختیاروزیراللّٰلہ کوجان دینے کے یقین کےساتھ الزام عائدکرتاہے تودوسرامتعلقہ انسان اللّٰلہ اورقرآن کوگواہ بناکرکہتاہے کہ جھوٹ بولے تواُس پرقہرنازل ہو۔ایسے حالات میںکوئی انسان یہ فیصلہ کیسے کرسکتاہے کہ کون سچ بول رہاہے اورکون جھوٹ؟کون کہہ سکتاہے کہ قبرمیں دونوں کے حالات ایک جیسے ہوں گے؟ہماری غلطیوں اورگناہوں پربخش دینے کااختیاراللّٰلہ سبحان تعالیٰ کے پاس ہے لہٰذااس امیدکےساتھ کہ اللّٰلہ تعالیٰ سب پر فضل فرمائے،کرم فرمائے ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ برزخ میں زندگی کیسی ہو۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: myk Production
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2020 اکثریت۔