صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
بدھ 22 جنوری 2020 

ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر جرمانہ، پاکستان نے امریکی عدالت سے رجوع کرلیا

ویب ڈیسک | جمعہ 10 جنوری 2020 

واشنگٹن: پاکستان نے ریکوڈک کیس میں عائد 6 ارب ڈالر کے جرمانے کو روکنے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کرلیا۔رپورٹ کے مطابق نیویارک سے تعلق رکھنے والی قانونی پبلیکیشن لا 360 نے یہ رپورٹ کیا کہ آسٹریلوی کاپر کمپنی ٹیتھیان کاپر پرائیوٹ لمیٹڈ نے صوبہ بلوچستان میں مسترد شدہ ریکوڈک مائیننگ منصوبے کے تنازع پر گزشتہ برس کیس جیتا تھا جس کے بعد پاکستان کو 6 ارب ڈالر کمپنی کو ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔تاہم اب اس معاملے پر پاکستان نے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کرلیا، جہاں موقف اپنایا گیا کہ 'فیصلے پر عمل درآمد سے ان کے سیاسی و معاشی استحکام پر تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے'۔

جمعہ کو عدالت میں جمع کرائے گئے ایک مختصر بیان میں ، پاکستان نے اعتراض کیا کہ 'ٹیتھیان کو قانونی چارہ جوئی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ وہ متعدد طریقہ کار کی غلطیوں کی بنیاد پر ایوارڈ (ٹھیکہ) منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے'۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ایوارڈ انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) کے ذریعہ جاری کیا جانے والا اب تک کا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ ہے اور یہ پاکستان کی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار کا 2 فیصد اور اس کے کُل مائع غیر ملکی ذخائر کا 40 فیصد ہے۔واضح رہے کہ آئی سی ایس آئی ڈی ایک بین الاقوامی ثالثی ادارہ ہے جو 1966 میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے مابین قانونی تنازعات کے حل اور مفاہمت کے لیے قائم کیا گیا تھا جسے واشنگٹن کے ورلڈ بینک گروپ سے فنڈز ملتے ہیں۔

پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ 'ہماری معیشت کو پہلے ہی کئی چیلنجز اور خامیوں کا سامنا ہے اور اس ایوارڈ کے نفاذ سے حکومت اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے گزشتہ سال موصول ہونے والے 6 ارب ڈالر کے قرض کی مؤثر انداز میں نفی ہوگی'۔ساتھ ہی پاکستان نے نشاندہی کی کہ آئی سی ایس آئی ڈی کے سکریٹری جنرل نے گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں اسے روکنے کی درخواست رجسٹرڈ کرتے ہوئے ایوارڈ کے نفاذ پر حکم امتناع دیا تھا، مزید برآں اس قانونی چارہ جوئی کو روکنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔

پاکستان نے دلیل دی کہ 'حکم امتناع سے نہ صرف اس عدالت کے فیصلے کے نفاذ کے عزم اور آئی سی ایس آئی ڈی کے ایوارڈ کو منسوخ کرنے کے عزم کے درمیان متضاد نتائج کے امکان سے گریز کیا جاسکے گا بلکہ اس سے اپیل اور اس کے بعد ہونے والی قانونی چارہ جوئی کے وقت اور اخراجات کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے'۔مختصر بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹربیونل نے بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کیا اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے جس غلط طریقہ کار پر انحصار کیا گیا اس کی اجازت یا وضاحت طلب نہیں کی گئی تھی اور اس کی وجہ سے روایتی ماڈل سے جتنا تخمینہ سامنے آنا تھا اس سے بہت زیادہ اربوں ڈالر کا اندازہ لگایا گیا۔

پاکستان نے موقف اپنایا کہ 'ٹیتھیان کو ایوارڈ دیے جانے میں رعایتی نقد کے بہاؤ کے طریقہ کار کا استعمال منصوبے کے لیے متعدد خدشات اور غیر یقینیوں کا محاسبہ کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔پاکستان نے کہا کہ 'ہماری معیشت کو پہلے ہی کئی چیلنجز اور خامیوں کا سامنا ہے اور اس ایوارڈ کے نفاذ سے حکومت اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے گزشتہ سال موصول ہونے والے 6 بلین ڈالر کے قرض کی مؤثر انداز میں نفی ہوگی'۔

پاکستان نے نشاندہی کی کہ آئی سی ایس آئی ڈی کے سکریٹری جنرل نے گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں اسے روکنے کی درخواست رجسٹر کرتے ہوئے ایوارڈ کے نفاذ پر حکم امتناع دیا تھا جبکہ قانونی چارہ جوئی کو روکنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔پاکستان نے دلیل دی کہ 'حکم امتناع سے نہ صرف اس عدالت کے فیصلے کے نفاذ کے عزم اور آئی سی ایس آئی ڈی کے ایوارڈ کو منسوخ کرنے کے عزم کے درمیان متضاد نتائج کے امکان سے گریز کیا جاسکے گا بلکہ اس سے اپیل اور اس کے بعد ہونے والے قانونی چارہ جوئی سے وابستہ وقت اور اخراجات کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2020 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔