صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعرات 19 ستمبر 2019 

ڈیوس کپ ٹائی: پاکستان سے منتقلی کا بھارتی مطالبہ

ویب ڈیسک | بدھ 14 اگست 2019 

نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھانے والے بھارت نے ڈیوس کپ ٹائی ٹینس کے مقابلے پاکستان سے منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

جنت نظیر وادی پر ظلم کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور سفارتی تناؤ عروج پر ہے،کشیدگی کے باعث بھارت نے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن ( آئی ٹی ایف ) سے ڈیوس کپ ٹائی کو کسی اورملک منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں، بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود جبکہ دوطرفہ تجارت معطل کرنے کے ساتھ سمجھوتہ اور تھرایکسپریس سروس معطل کردی تھی۔

 

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق ایشین اوشیانا گروپ ون کے ٹائی مقابلے اسلام آباد کے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں 14اور 15 ستمبر کو شیڈول ہیں، اس میں شرکت کے لیے جولائی میں بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کی تصدیق بھی کی تھی۔

آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن کے صدر پراوین مہاجن نے اے ایف پی کوبتایا کہ ہم نے آئی ٹی ایف سے میچ کے لیے غیر جانبدار مقام کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس وقت صورتحال غیر متوقع ہے، انھوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے یہ درخواست معقول ہے۔

مہاجن نے مزیدکہا کہ میں پرامید ہوں کہ ڈیوس کپ ٹائی کا مقام تبدیل کردیا جائے گا کیونکہ پاکستان نیوٹرل وینیوز میں کھیلنے کا عادی ہے، انھوں نے امید ظاہر کی کہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے رواں ہفتے ہماری درخواست کا جواب دے گی۔

قبل ازیں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سلیم سیف اللّٰلہ نے کہا تھا کہ اگر آل انڈیا ٹیسن فیڈریشن نے نیوٹرل وینیو کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے فیصلے کا احترام کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کی ٹینس ٹیم نے ڈیوس کپ ٹائی کے لیے 55 سال بعد پاکستان کا دورئہ کرنا تھا اور وہ 1964 میں آخری مرتبہ پاکستان آئی تھی۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔