صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ دسمبر 2019 

ٹی ٹوئنٹی کپتان کیلئے شاداب خان کا نام تجویز

اسپورٹس رپورٹر | اتوار اگست 2019 

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے مستقبل کے ٹی ٹوئنٹی کپتان کے لیے سرفراز احمد کا نام تجویز کر دیا۔

قومی ٹیم کی گزشتہ تین سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کرکٹ کمیٹی کا اجلاس پی سی بی کے ہیڈ کوارٹر میں ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر، کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بھی شرکت کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی اور کرکٹ کمیٹی کے سربراہ وسیم خان لیسٹر شائر کاؤنٹی کے سی ای او رہنے کے بعد پہلی بار ٹیسٹ کھیلنے والے کسی ملک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

وسیم خان فرسٹ کلاس کرکٹ میں 58 میچوں اور لسٹ اے میں 30 میچوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔

کرکٹ کمیٹی میں وسیم اکرم، مصباح الحق، مدثر نذر، ذاکر خان اور عروج ممتاز بھی ان کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔

اجلاس میں وسیم خان نے سرفراز احمد سے پوچھا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے مجھ سے فون کرکے پوچھ سکتے تھے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی میں وسیم اکرم اور مصباح الحق جیسے بڑے کھلاڑی اور سابق کپتان موجود تھے لیکن لاہور میں جمعے کو ہونے والے اجلاس میں کئی ایسی باتیں سامنے آئیں جس نے کمیٹی کی اہلیت اور ساکھ کے حوالے سے سوال اٹھایا۔

حددرجہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ایم ڈی اور کرکٹ کمیٹی کے سربراہ وسیم خان نے کپتان سرفراز احمد سے سوال پوچھا کہ آپ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کیوں کی، اگر فیصلہ سمجھ نہیں آرہا تھا تو آپ مجھ سے فون کرکے پوچھ سکتے تھے، پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔

وسیم خان انگلینڈ میں فرسٹ کلاس کرکٹ ضرور کھیل چکے ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے 49 ٹیسٹ، 114 ون ڈے انٹر نیشنل اور 55 ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل کھیلنے والے سرفراز احمد وسیم خان کی بات سننے کے بعد کچھ دیر کے لیے خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئے۔

وسیم خان سرفراز احمد سے سوال پوچھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کی بھی حمایت کر رہے تھے۔

اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست وسیم اکرم، مدثر نذر اور ذاکر خان بھی موجود تھے۔

عمران خان نے بھی بھارت کے خلاف میچ سے قبل سرفراز احمد اور مکی آرتھر کو پہلے بیٹنگ کرنے کا مشورہ دیا تھا، اجلاس میں ہیڈ کوچ اور کپتان کو اسی حوالے سے زیادہ سوالات کا سامنا رہا۔

کمیٹی پہلے مرحلے میں کوچنگ اسٹاف کے حوالے سے تجاویز تیار کر رہی ہے۔

کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں کپتان سرفراز احمد سے ان کی کپتانی اور انفرادی کارکردگی کے حوالے سے زیادہ سوالات ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں بارش سے متاثرہ پچ پر ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ مشترکہ طور پر کپتان، کوچ اور سینئر کھلاڑیوں نے کیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی نے تین سال کے دوران پاکستان ٹیم کی کارکردگی کے بجائے سوال جواب کے دوران توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز رکھی، ایسا تاثر دیا گیا کہ پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں ٹیم انتظامیہ کے خلاف عدالت لگی ہوئی ہے۔

ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کرکٹ کمیٹی نے میٹنگ کے دوران یہ تاثر بھی دیا کہ پاکستان ٹیم کے سینئر کھلاڑی محمد حفیظ اور شعیب ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اس سے ایسے لگ رہا تھا کہ شعیب ملک کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ہے، ورلڈ کپ میں ان کی خراب کارکردگی نے ان کا کیس کمزور کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹ کمیٹی نے زیادہ تر فوکس کوچز پر رکھا، اُن کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے سوال پر ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطمئن نہ کر سکے، انہوں نے شاداب خان کا نام مستقبل کے ٹی ٹوئنٹی کپتان کے لیے تجویز کر دیا۔

کپتان اور کوچ نے ورلڈکپ میں ٹیم کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جب کہ انضمام الحق نےکہا کہ بطور چیف سلیکٹر میں نے اور پوری سلیکشن کمیٹی نے نیک نیتی کے ساتھ کام کیا۔

مکی آرتھر نے ٹیم کی ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی کی وجہ فیلڈنگ اور کیچ ڈراپ ہونے کو قرار دیا۔

اجلاس میں مکی آرتھر نے محدود اوورز کیلئے شاداب خان کا نام مستقبل کے کپتان کیلئے تجویز کرکے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ورلڈ کپ میں کارکردگی سے مطمئن ہوں لیکن یہ مزید بہتر ہو سکتی تھی۔

سرفراز سے میٹنگ میں پوچھا گیا کہ تینوں فارمیٹ میں کپتانی کے دوران آپ سے غلطیاں ہوئیں، کمیٹی اراکین نے اعتراض کیا کہ تینوں فارمیٹ کا کپتان ہونے کی وجہ سے آپ دباؤ کا شکار دکھائی دیئے، ورلڈ کپ میں لیڈنگ فرام دی فرنٹ کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔

کمیٹی سرفراز احمد کی فارم اور فٹنس سے غیر مطمین تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد اپنی اور ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کرتے رہے اور کہا کہ تینوں شعبوں میں بھرپور محنت جاری رکھی، بعض اوقات قسمت نے ساتھ نہ دیا اور نتائج حق میں نہ آئے، نوجوان کھلاڑی کم تجربہ کار ہیں لیکن اچھا پرفارم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔