صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
جمعہ دسمبر 2019 

چمڑی جائے، دمڑی نہ جائے !

شاہد ندیم احمد | پیر 15 اپریل 2019 

پا کستانی سیاست کے عجب رنگ ڈھنگ ہیں ،کل کے حکمران آج اپنے بچاﺅ کی تگو دو میں کچھ بھی کر گزرنے پر تلے نظر آتے ہیں ،کل تک یہی سیاستدان ایک دوسرے کا نام سن کر آگ بگولہ ہو جاتے تھے ،ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے، ان کے اندر نفرت بھرا زہر کھولنے لگتا تھا ،لیکن آج قدرت نے محرومیوں کے جہنم میں ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ پیدا کردیا ہے ،چونکہ ان کے دکھ درد ساجھے ہیں ،اس لیے کل کے سیاسی دشمن آج ایک دوسرے کے لیے دوستی کا پیغام عام کرتے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے ہیں ۔آصف علی زرداری کے گرد نیب کا شکنجہ تگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ،جبکہ بلاول زرداری کا سیاسی مستقبل باپ کے بچاﺅ میں داﺅ پرلگا ہے ۔میاں نواز شریف خاموشی سے ڈیل کے منتظر سیاسی تنہائی کا شکار ہیں ،ان کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہے ،لیکن حکومت اس بے ترتیب دھڑکن کی خواہشات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمن،میاں نواز شریف کی سیاسی تنہائی کو دور کرنے اور آصف علی زرداری کے بچاﺅ کی تدابیرکے لئے ملاقات کررہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن کئی دہائیوں کے بعد حکومت سے نہ صرف الگ ہوئے ،بلکہ ان کی پارٹی کے پاس کوئی حکومتی عہدہ بھی نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کو للکار تے ہوئے اس کے خاتمے کی دھمکی دے رہے ہیں ،مگر حکومت گرانے کی معصوم خواہش کی تکمیل کے لیے کسی سیاسی حلیف کو آمادہ کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔اس وقت ان کے تمام سیاسی حلیف خود کو بچانے کی تگو دو میں مصروف حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

میاں نواز شریف اپنی بیماری کے سبب چھ ہفتوں کی ضمانت پر ہیں، وہ جیل میں تھے تو ا


±ن کے دل کی بیماری اخبارات میں موضوع بحث بنی ہوئی تھی۔ حکومت نے شدید دباو


¿ میں آئی کئی میڈیکل بورڈز قائم کیے اور ماہرین سے ان کا معائنہ کروایا، سب کی رائے یہی تھی کہ دل کا معاملہ ہے اس لیے انہیں اسپتال میں داخل ہو کر مناسب علاج کروانا چاہیے، لیکن میاں نواز شریف ضمانت کے بغیر علاج کے لیے آمادہ نہ تھے۔ بالآخر عدالت عظمیٰ نے ان کے وکیل کی درخواست پر ان کے لیے چھ ہفتوں کی عارضی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے، البتہ پاکستان میں جہاں چاہیں اپنا علاج کراسکتے ہیں۔ میاں نواز شریف کوضمانت پر رہا ہوئے دو ہفتے سے زیادہ ہوگئے ہیں، علاج کے لیے انہوں نے اپنے ذاتی اسپتال شریف سٹی اسپتال کا انتخاب کیا ہے۔ وہ اسپتال میں داخل تو نہیں ہوئے، لیکن اس اسپتال کے ڈاکٹر گھر پر ان کا علاج کررہے ہیں۔ مرحوم میاں محمد شریف بھی اپنے اسی ہسپتال میں زیر علاج رہے، لیکن میاں نواز شریف تو اقتدار کے گھوڑے پر سوار تھے ،وہ بیمار ہوئے تو انہوں یشن بھی ہوا، وہ تین ماہ تک لندن میں مقیم رہے لیکن پارلیمنٹ سے رخصت لی نہ ملک کے اس اعلیٰ ترین ادارے کو اپنی بیماری کے بارے میں کچھ بتانا ضروری سمجھا، بلکہ وہ پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر اپنا اسٹاف بھی لندن لے گئے اور وہاں سے پاکستان پر حکومت کرتے رہے۔اگرچہ میاںنواز شریف اقتدار سے محروم ہوگئے لیکن ان کی شان بان وہی ہے، انہیں وہ تمانے پاکستان میں اپنا علاج کرانا کسرِ شان سمجھا اور لندن کے ایک اسپتال میں زیر علاج رہے، جہاں ان کے دل کا بڑا آپرم روگ لگے ہوئے ہیں جو اس عمر میں آسودہ حال لوگوں کو لگ جاتے ہیں۔ دل کے عارضے کے علاوہ وہ گردے کی بیماری ، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے بھی مریض ہیں۔ یہ ساری بیماریاں زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور چھ ہفتوں میں ان کا علاج ممکن نہیں ہے جب کہ عدالت عظمیٰ نے انہیں صرف چھ ہفتوں کی مہلت دی ہے ، البتہ عدالت عظمیٰ نے انہیں یہ رعایت دی ہے کہ وہ مزید ریلیف کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں ،جہاں سزا کے خلاف ان کی اپیل پہلے ہی زیر سماعت ہے۔ خیال کیاجارہا ہے کہ ہائی کورٹ انہیں علاج جاری رکھنے کے لیے مزید چھ ہفتوں کی مہلت دے سکتی ہے۔

 

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اور میاں نواز شریف کی بیماری کا تعلق سیاست سے ہے جس میں امکانات کے در کھلے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ( ن )کے متوالے انہیں دوبارہ جیل جانے نہیںدیں گے۔ اگرچہ میاں نواز شریف کی عارضی رہائی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آئی ،لیکن اس کے پیچھے ڈیل کی سحر کاری کے اثرات موجود ہیں۔ میاں شہباز شریف پلی بارگین کے پرانے کامیاب کھلاڑی ہیں، وہ مقتدر قوتوں کی گڈ بک میں بھی ہیں ۔مسلم لیگ( ن ) قیادت کی خاموشی اور مولانا فضل الر حمن حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے سے معذرت واضح ثبوت ہے کہ پس پردہ معاملات طے پا چکے ہیں ،خود وزیراعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر نواز اور زردری قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کردیں تو وہ انہیں چھوڑ دیں گے۔ قانون و عدالتوں میںکیسا انصاف ،فیصلہ سازی تو کہیںاور ہورہی ہے ۔حکومت کو پلی بارگین کے ذریعے پیسے کی واپسی کا اشارہ دیا گیا ہے ، یہ بھی ڈیل کی ایک شکل ہے ،شریف خاندان تیس پینتیس سال تک ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ہے، اس نے کتنی دولت اکٹھی کی ہے، حکومت بخوبی جانتی ہے ۔ شنید ہے کہ میاں نواز شریف 2 ارب ڈالر دینے پر آمادہ ، البتہ بچے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں،جبکہ والدہ نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ بیٹا جان ہے تو جہان ہے ،سب کچھ دیے کر جان بچاو


¿۔ اب دیکھنا ہے کہ ڈیل 2 ارب ڈالر پر ہوتی ہے یا حکومت مزید نکلوانے میں کامیاب رہتی ہے۔ ظاہری طور پر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ”چمڑی جائے، دمڑی نہ جائے“ کے اصول پر سختی سے کار بند نظر آتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے جس بڑے پیمانے پر ملک کو لوٹا، اس کا اندازہ نہیں لگایاجاسکتا ،لیکن وہ ایک دھیلا بھی واپس کرنے پر آمادہ نہیں، انہوں نے اپنے خزانے کی کنجی اپنے بیٹے کے سپرد کرکے فرنٹ فٹ پر کھلایا جارہاہے ، وہ جوش جنوں میں حکومت کو لات مارکر گرانے کی دھمکی دے رہا ہے ،جبکہ خودآصف علی زرداری نے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ جیل میں ہوں یا جیل سے باہر حکومت کو گرا کر دم لیں گے۔پا کستانی سیاست میں کبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ،حکومت گر سکتی اور گرا بھی سکتی ہے ۔آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف مقتدر قوتوں کی رضا مندی سے حکومت سے ڈیل کامیاب بنا کربیرون ملک بھی جاسکتے ہیں،ایسی صورت حال میں قانون اور عوام اس احتسابی عمل کو حیرت سے دیکھتا تے رہ جائیں گے۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔