صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
منگل 23 اپریل 2019 

بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں: چیف جسٹس پاکستان

اکثریت ڈیسک | ہفتہ 13 اپریل 2019 

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا ہےکہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں لہٰذا پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔

وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں فوری فراہمی انصاف کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کے لیے وقت مقرر کیا جاتا ہے، امریکا اور برطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 26 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ کے 3 ہزار ججز نےگزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمے داری ہے جب کہ ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی تھا، ماڈل کورٹس مشن کے تحت قائم کی گئی تھیں، ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے، ماڈل کورٹ کا مقصد التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ جب سے جج بنا ہوں، میرا مقصد فوری انصاف کی فراہمی رہا ہے، جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدموں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا، مقدما ت کا التوا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں، پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کر کے چالان پیش کرنا چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ مقدمات کا وقت مقرر کرنے سے انصاف کا حصول آسان ہوگا، کسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا، کیمیکل ایگزامینر اور فرانزک اتھارٹیز کی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنےکو یقینی بنانا ہوگا۔

معزز چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیاگیا، بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔

ان کاکہنا تھاکہ عدالتی قوانین واضح ہیں بس انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشتگردی ایکٹ سمجھنے کے لیے قانون میں تعارف موجود ہے، قوانین میں ابہام دور کرنے کے لیے اٹارنی جنرل سے رائے مانگی جاتی ہے، ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔