صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
ہفتہ 14 دسمبر 2019 

فکر آخرت

مولانا رضوان اللّٰلہ پشاوری | جمعہ 15 مارچ 2019 

عدم کی واسطے سامان کر غافل 
مسافر شب کو اٹھتے ہیں جب منزل دور ہوتاہے
آج کل ہم نے خدا کو چھوڑ رکھا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر قسم کے مشکلات کا سامنا ہے،قرآن کریم میں اللّٰلہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی بیماریاں اور اس کی علاج کا ذکر کیا ہے،سورة اعلیٰ میںبھی ایک بیماری اور اس کا علاج ذکر ہے،بیماری تو یہ ہے کہ ہم نے دنیاوی زندگی کو ترجیح دی ہے اور مقصود اصلی کو پس پُشت ڈالا ہے،ہمیں تو اللّٰلہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لےے پیدا کیا ہے،لیکن ہم اسی دنیا میں رہ کر ان کی نافرمانی کرتے ہیںاور اسی بیماری کی علاج یہ ذکرکی ہے کہ آخرت ہی بہتر اور باقی ہے مطلب یہ کہ اپنے سامنے آخرت کا فکر رکھو تو زندگی اچھی گُزرے گی۔ 
یہی فکر آخرت ان صحابہ کو بھی تھی جن کی ولایت کی شہادت خود رسولِ اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے دی تھی،ان کے نیک اعمال، تقویٰ و طہارت کی قسم کھائی جاسکتی ہے ، لیکن جب کبھی بھول کر کوئی معمولی گناہ بھی ان سے سرزد ہوجاتا تو بے چین ہوجایا کرتے تھے ۔ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰلہ عنہ نے اپنے غلام کی مشتبہ کمائی میں سے کچھ حصہ کھالیا تھا، بھوک کی شدت کی وجہ سے تحقیق کا خیال نہ رہا، غلام نے کھالینے کے بعد جب اطلاع دی تو سخت پریشان ہوئے اور منہ میں ہاتھ ڈال کر قئے کردی اور فرمایا کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو جسم حرام سے پرورش پائے ، اس کے لئے دوزخ کی آگ بہت مناسب ہے ۔ مجھے ڈر ہوا کہ اس لقمہ سے میرے جسم کا کوئی حصہ پرورش نہ پاجائے ۔ (خلفاءالرسول: ۶۹)
حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ آپ رات کو بیت المال میں بیٹھے ہوئے کوئی خلافت کا کام انجام دے رہے تھے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللّٰلہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور فرمایا کہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے دریافت فرمایا کیا آپ کو کچھ خلافت کے کام سے متعلق گفتگو کرنی ہے یا اپنے کسی ذاتی و نجی مسئلہ میں؟ انھوں نے فرمایا مجھے اپنے ذاتی معاملہ میں گفتگو کرنی ہے ، اس پر حضرت عمر رضی اللّٰلہ عنہ نے فرمایا: بس تو چلو کسی اور جگہ بات کریں گے ، کیونکہ بیت المال کی روشنی میں بیٹھ کر ذاتی گفتگو کرنی درست نہیں ہے ۔
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللّٰلہ عنہ جو حضورِ اقدس صلی اللّٰلہ علیہ وسلم کے داماد اور تیسرے خلیفہ تھے اور جن کو آپ نے جنتی ہونے کی بشارت دی تھی، ان کا یہ حال تھا کہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے خوف آخرت سے اس قدر روتے کہ ان کی مبارک داڑھی تر ہوجاتی۔ کسی نے سوال کیا آپ دوزخ اور جنت کے تذکرہ سے نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر اس قدر روتے ہیں؟ اس پر حضرت عثمان رضی اللّٰلہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ رسولِ اکرم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بِلاشبہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے ۔ اگر قبر کی مصیبت سے کسی نے نجات پالی تو اس کے بعد سب منزلیں آسان ہوجائیں گی اور اگر اس کی مصیبت سے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہیں۔ (ترمذی)
حضرت علی رضی اللّٰلہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جب نماز کا وقت آجاتا تو بدن پر کپکپی آجاتی تھی اور چہرہ زرد ہوجاتا تھا۔ کسی نے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو فرمایا: اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے جس کو اللّٰلہ جل شانہ نے آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر اُتارا تو وہ اس کے تحمل سے عاجز ہوگئے اور میں نے اس کا تحمل کرلیا، اب دیکھنا چاہئے پوری ادا کرتا ہوں یا نہیں۔ (آخرت کے فکرمندوں کے پچاس قصے / ۲۵ ،۲۶)
کاش! تمام مسلمانوں کے دِل و دماغ میں آخرت کا تصور مستحکم اور مضبوط ہوجائے اور اللّٰلہ کے خوف اور یادِ الٰہی سے ہر لمحہ سینہ معمور رہے ۔ بِلاشبہ آج بھی مسلمانوں میں اِنقلابی قوت پیدا ہوسکتی ہے اور دُنیا میں پھر ایک بار امانت، عدل و اِنصاف اور امن و سکون کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے ۔ زندگی کے جو حصے گزر چکے ، اب ان کی اِصلاح تو نہیں ہوسکتی، البتہ زندگی کے جو ایام باقی رہ گئے ہیں، ان کو فکر آخرت میں گزارکر اللّٰلہ کی مرضی ہم پاسکتے ہیں۔ بقول شاعر 
وقت طلوع دیکھا وقت غروب دیکھا
اب فکر آخرت ہے ، دُنیا کو خوب دیکھا
حضرت بہلولؒ کا ایک واقعہ یاد آیا مگر اس واقعہ سے پہلے حضرت بہلولؒ کی مختصر تعریف بھی سُن لیں،حضرت بہلول رحمتہ اللّٰلہ علیہ کوفہ میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام وہاب بن امر تھا، آپ حضرت امام جعفر صادق کے شاگرد اور امام موسی کاظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔ خلیفہ ہارون الرشید نے جب امام موسی کاظم کے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے ختم کرنا شروع کیا تو آپ کچھ ساتھیوں کے ہمراہ امام موسی کاظم سے ملے جو اس وقت زیر حراست تھے جب امام موسی کاظم سے درپیش حالات کے حوالے سے مشورہ مانگا تو آپ نے صرف ایک حرف "ج" لکھ کر دیا۔ اس حرف کی سب نے اپنے اپنے انداز سے تشریح کی اور اس پر عمل کیا۔ "ج" سے جلا وطن، جبل یعنی پہاڑ اور حضرت بہلول دانا کے لیے "ج" سے جنون۔اگلے روز آپ نے اپنی عالیشان زندگی کو خیرآباد کہا اور فقیرانہ حلیے میں بغداد کی گلیوں میں پھرنا شروع کر دیا۔ جلد اہل بغداد نے آپ کو بہلول مجنون کے نام سے پکارنا شروع کر دیا اور اس طرح آپ ہارون الرشید کے عتاب سے محفوظ ہو گئے ۔ حضرت بہلول دانا کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ نے مصلحت کے تحت مجزوبانہ حلیہ اپنایا تھا۔
بہلول مجذوب ہارون الرشید کے زمانے میں ایک مجذوب صفت بزرگ تھے، ہارون الرشید ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے ،کبھی کبھی جذب کے عالم میں وہ پتے کی باتیں بھی کہہ جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ بہلول مجذوب ہارون الرشید کے پاس پہنچے، ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھاکردی،مزاحاً کہا کہ بہلول یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوںجو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا، بہلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی اور واپس چلے آئے بات آئی گئی ہوگئی،شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہوں گے، عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی بچنے کی کوئی امید نہ تھی،اطبا نے جواب دیا ، بہلول مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اورسلام کے بعد پوچھاامیر المومنین کیا حال ہے ؟ امیر المومنین نے کہا حال پوچھتے ہو بہلول؟ بڑا لمبا سفر درپیش ہے ۔ کہاں کا سفر؟بہلول نے کہا، جواب دیاآخرت کا، بہلول نے سادگی سے پوچھااچھا واپسی کب ہوگی؟ جواب دیا بہلول! تم بھی عجیب آدمی ہو،بھلا آخرت کے سفر سے بھی کوئی واپس ہوا ہے ،بہلول نے تعجب سے کہا اچھا آپ واپس نہیںآئیں گے؟ تو آپ نے کتنے حفاظتی دستے آگے روانہ کئے اورساتھ ساتھ کون جائے گا؟ جواب دیاآخرت کے سفر میںکوئی ساتھ نہیں جایا کرتا،خالی ہاتھ جارہا ہوںبہلول مجذوب بولا اچھا اتنا لمبا سفر کوئی معین ومددگار نہیں پھر تو لیجئے ہارون الرشید کی چھڑی بغل سے نکال کر کہا یہ امانت واپس ہے مجھے آپ کے سوا کوئی انسان اپنے سے زیادہ بے وقوف نہیں مل سکا،آپ جب کبھی چھوٹے سفر پر جاتے تھے ،تو ہفتوں پہلے اس کی تیاریاں ہوتی تھی،حفاظتی دستے آگے چلتے تھے،حشم وخدم کے ساتھ لشکر ہمرکاب ہوتے تھے ۔ اتنے لمبے سفر میں جس میں واپسی بھی ناممکن ہے آپ نے تیاری نہیں کی، ہارون الرشید نے یہ سنا تو روپڑے اور کہاکہ بہلول ہم تجھے دیوانہ سمجھا کرتے تھے مگرآج پتہ چلا کہ تمہارے جیسا کوئی فرزانہ نہیںہے۔
ہارون الرشید کہتے ہیں کہ مجھے بہلول کے اس مکالمہ سے معلوم ہوا کہ میں تو آخرت کے سفر پر جارہاہوں اور میں انے اپنے سے پہلے کوئی عمل نہیں بھیجا کہ وہ میرے لےے راہ ہموار کرلیں۔
قارئین کرام اللّٰلہ تعالیٰ ہم سب کو فکر آخرت لاحق کر دے(آمین)
انچارج دینی ایڈیشن”روزنامہ اکثرییت“

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔