صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
اتوار 24 مارچ 2019 

عالمی امن کا دشمن بھارت

سلما ن احمد قریشی | جمعرات 14 مارچ 2019 

آج اقوا م متحدہ اور بہت سے عالمی گروپ کہہ رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارت سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیو ں میں ملوث ہے، مقبوضہ وادی میں بڑھتی عسکریت پسندی کی بڑی وجہ بھی ریاستی تشدد ہے ۔ خطے میں امن و امان کی ضمانت مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا


© کہ" دنیا کی نظریں شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے خطروں پر ہیں لیکن شمالی کوریا نہیں بلکہ پاک بھارت تنازع ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ دونوں ملکوں میں حالیہ کشیدگی کے بعد کسی حد تک کمی آ گئی لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجید ہ کوششوں تک ایک اور خطر ناک کشیدگی کے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ مسئلہ کشمیر کے باعث ستر برس میں دونوں ممالک میں تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اور آج بھی حالات کشیدہ ہیں


©"۔ اخبار نے اپنے اداریے میں امریکہ پر زور دیا کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالث کا کردار ادا کرے ۔عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کرے، عالمی دباﺅ کے بغیر صورتحال میں حقیقی بہتری کا امکان نہیں۔1999ء،2002ءاور 2008ءمیں امریکی صدور بل کلنٹن ، جارج بش اور باراک اوباما نے جارحانہ اقدامات کرتے ہوئے پاک بھارت کشیدگی کو بڑھنے سے روک دیا تھا مگر ٹرمپ انتظامیہ اس حوالہ سے چند بیانات کے سوا کچھ نہ کیا ۔بھارت سے تجارتی مفادات کی وجہ سے ان کا واضح جھکاﺅ بھارت کی طرف ہے ، امریکہ ثالثی کا کردار ادا کرتا نظر نہیں آتا ۔

 

قارئین ! امریکہ کی امنگیں ، عزائم،رجحانات اور مقاصد جو کچھ بھی ہوں عالمی برادری میں بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے ۔دنیا سمجھ چکی ہے بھارت کشمیر میں ظلم کر رہا ہے اور خطے میں بالا دستی کا خواہش مند ہے ، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن ااور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی بات کی ۔ بلوچستان میں گڑ بڑ کروانے کی بھارتی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت کلبوشن یادیو کیس عالمی عدالت میں ہے ۔ حالیہ کشیدگی میںبھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ، لائن آف کنٹرول پر شہر ی آبادیوں پر فائرنگ ، گولہ باری ، بہاولپور اور کراچی پر حملے کا منصوبہ پاکستانی بحری حدو د میں بھارتی آبدوز کی نشاندہی اور بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی کے اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستان کا رویہ مثبت اور سنجیدہ رہا ۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ ہمارا دفاع مضبوط ہے اور بلا مشروط جذبہ خیر سگالی کے تحت گھس کر مارنے کے دعویداروں کا گرفتار پائلٹ نہ صرف رہا کر دیا بلکہ پلوامہ واقعہ میں تحقیقا ت کے سلسلہ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی،بھارت نے آبی جارحت سے بھی گریز نہ کیا ۔ نریندر مودی نے انتخابات میں کامیابی کیلئے خطے کا امن ہی داﺅ پر لگا دیا ۔

حالیہ برسوں میں بھارت کے تضادات کا ٹکراو انتہائی عروج پر ہے ، سب سے بڑھ کر بھارت کی اکثریتی آبادی جو بنیاد پرست ہندﺅں پر مشتمل ہے نے نہتے اور معصوم مسلمانوں کا قتل عام ہی شروع کر دیا۔ میرٹھ میں ہونے والا واقع سیکولر بھارت کے منہ پر طما نچہ ہے ۔انتہا پسند مودی اپنے اقتدار کی اندرونی کشمکش کیلئے بھارت کے سیکولر ڈھانچے پر کھڑی عمارت کو ہی گرانے کے در پر ہے۔ صورتحال ایسی ہی رہی تو مودی انتخاب تو کیا جیتے گا بھارت جلد ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دو چار ہو جائے گا ۔ نریندر مودی کی پالیسیوں کا حاصل نتیجہ خطے میں بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کر کے مودی دہلی میں وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوا ، اس اقتدار کو طوالت دینے کی خواہش نے بھارت کے مقدر میں ذلت لکھ دی ، انتہا پسند ، بنیاد پرست ، درندہ صفت کے ہندﺅں کے بھارت میںمسلمانوں کا قتل عام اور مقبوضہ وادی میں مظالم سے پاکستان اور مسلم دنیا مضطرب ہے ۔یہ اضطراب و تشویش عالمی سطح پر محسوس کی جارہی ہے فی الحال کچھ ممالک تشویش کا اظہار مناسب انداز میں ضرور کر رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے منافی بھارت کے اقدامات زیادہ عرصہ برداشت نہیں کئے جا سکیں گے ۔ ٹرمپ کے مالی مفادات اور بھارت نواز پالیسی اب چل نہیں سکتی ۔ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی میں بھارت کو مات دے دی ۔ انتخاب جیتنے کیلئے پاکستان دشمنی پر مبنی جذبات کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خواہش مند بی جے پی کی پالیسیوں کے نتیجہ میں بھارت کا عسکری طاقت ہونے کا بھرم بھی خاک میں مل گیا ۔ بھارت جنوبی ایشیا میں بالا دستی کا خواہش مند تھا۔ مگر

پاکستان نے ثابت کر دیا عددی اکثریت نہیں تربیت اور عسکری حکمت عملی سے طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بھارتیوں نے دیکھا پاکستانی فوج بھارتی فوج سے بدرجہ بہتر ہے ۔ پاکستان میں سیاسی شعور اور یکجہتی بھارت کی نسبت قابل ستائش ہے ۔ پاکستانی قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ جھوٹے دعوے اور فرضی واقعات سنانے والے بھارتی حکمرانوں کو آج ملک کے اندر ہی سے سوالات کا سامنا ہے ۔ گھس کر مارنے کے بھارت کے دعوے بالی وڈ کی فلموں کی طرح ہیںحقیقت میں بھارت فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان پر غالب نہیں آ سکتا۔

کشمیر اور سکھوں کے معاملے میں بھارت نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا، مودی نے کشمیر میں مظالم کی نئی داستان رقم کر دی، جبکہ پاکستان سے بقائے باہمی کے اصول پر ساتھ رہنے کا معاہدہ کشمیر اور سکھوں کا معاملہ انکی مرضی کے ساتھ طے کئے بغیر بھارت معاشی اہداف بھی حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی خطے میں امن ہو سکتا ہے۔ بھارت کی علاقائی طاقت بننے کی خواہش اور مودی کی اقتدار کی آرزونے خطے میں بے چینی پیدا کر دی ۔ اس صورتحال سے جنگی سامان بیچنے والے ممالک کے مفادات تو وابستہ ہو سکتے ہیںلیکن انسانیت سے پیار کرنے والے ممالک ٹرمپ اور مودی کے عزائم سے بے خبر نہیں۔ بھارت دنیا کے امن کیلئے روز بروز عذاب بنتا چلا جا رہا ہے اور عالمی امن کو خطرہ مقبوضہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے ہے پاکستان پر لگائے گئے بھارتی الزامات سے نہیں۔ بھارتی الزامات کی حقیقت موجودہ کشیدہ صورتحال میںپاکستان کے اقدامات سے دنیا پر واضح ہے۔

 مقبوضہ کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات نے بھاری جارحیت کے خلاف اپنے سر ورق کو خالی چھوڑ کر بھار ت کے نام نہاد سیکولر ازم کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ کٹ پتلی انتظامیہ نے سرکاری اشتہارات کو مودی سرکار کی مدح سرائی اور بھارتی فوج کے مظالم نہ دکھانے سے مشروط کر دیا۔ بھارت نواز کٹ پتلی انتظامیہ نے مودی سرکار کے کہنے پر بھارتی فوج کے معصوم کشمیریوں پر مظالم کی خبریں شائع کرنے پر گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈرز کو خاموش کروانے کیلئے اشتہارات رو ک لئے تھے ۔ سیکولر بھارت میں بھارت میں ایسی آگ لگائی کہ لندن میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں غاصبانہ قبضے اور بھارتی افوا ج کے مظالم کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے کشمیریوں اور سکھ برادری نے احتجا ج کیا ، اس مظاہرے میںکشمیری ، سکھ ، دلت ، خواتین کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی، مظاہرین نے مودی سرکار کے خلاف نعرے بھی لگائے ، بھارتی جنتا پارٹی کے انتہا پسندوں نے مظاہرین پر حملہ کر دیا، مظاہرین سے جھنڈ ے اور پلے کارڈ چھیننے کی کوشش کی، تصادم میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال پر قابو پایا ۔ ایسا مظاہر ہ لندن کی بجائے اگر بھارت کے کسی شہر میں ہوتا تو بی جے پی کے کارکن آگ لگا دیتے اور مودی کی تربیت او ر افکار سے قتل و غارت کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔نریندر مودی نے اپنے اقتدار کی خاطر سیکولر بھارت کو مذہبی جنونیت کے حوالے کر دیا ، مسلمانوں کے خلاف آگ لگانے کا خواہش مند مودی آج پورے بھارت میں آگ لگا چکا ہے۔ اس آگ سے جہاں بھارت اندرونی طور پر جل کر راکھ ہو جائے گا اس آگ کے شعلوںسے پورا خطہ غیر محفوظ ہے ، ٹرمپ کے معاشی اور مودی کے سیاسی مفادات عالمی امن کیلئے اصل خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور امن کی خواہشمند طاقتوں نے اگر اب مودی کو نہ روکا تو معاملات کسی بھی وقت خراب ہو سکتے ہیں۔ آج دنیا میں امن کی ضمانت مسئلہ کشمیر کے حل اور مودی کی سیاسی شکست سے مشروط ہے۔اس کا فیصلہ بھارتی عوام کو کرنا ہے اور عالمی برادری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مودی جیسے حکمرانوں کا ساتھ دینے والے ممالک پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ معاشی مفادات کو انسانیت پر ترجیح نہ دیں۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔