صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    رپورٹر اکاونٹ    ہمارا رابطہ
اتوار 19 مئی 2019 

توبہ اور استغفار

مولانا رضوان اللّٰلہ پشاوری | جمعہ 18 جنوری 2019 

توبہ و استغفار سے نہ صرف گناہ بخش دیے جاتے ہیں بلکہ خالق کونین اپنی مہربانی ، فضل و احسان سے تائب کے گناہوں کو نیکیوں سے تبدیل کردیتا ہے ارشادربانی ہوتا ہے ،مگر وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے تو یہ وہ لوگ ہیں بدل دے گا اللّٰلہ تعالی ان کی برائیوں کو نیکیوں سے ۔(سورة الفرقان) 
حضور نبی اکرم صلی اللّٰلہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کراور وصال ظاہری کے بعد آپ صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار پر انوار پر حاضری دے کر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے ، اپنی مغفرت ونجات کی التجاءکرنے اور اپنی مشکلات کی دوری چاہنے کا سلسلہ صحابہ کرام رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہم سے چلا آ رہا ہے ۔
 بارگاہ رسالت صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم میں توبہ و رجوع کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیں ، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں:میں نے ایک ایسابستر خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں ،جب رسول اکرم صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ۔میں نے آپ کے روئے انور پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض گزار ہوئی:یارسول اللّٰلہ ! صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم مجھ سے جو نافرمانی ہوئی میں اس سے اللّٰلہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۔ ارشاد فرمایا: یہ گدا یہاں کیوں ہے ؟ عرض کی: میں نے آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کے لئے خریدا تھا تاکہ آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں اور اس سے ٹیک لگائیں۔سرکار کائنات صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان تصویروں (کو بنانے )والوں کوقیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا:جو تم نے بنایا انہیں زندہ کرو۔ اور ارشاد فرمایا:جس گھر میں تصویریں ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ (صحیح البخاری)
توبہ اور استغفار کی کثرت کیجیے :
بحیثیت مسلمان مومن بندوں کو کثرت توبہ واستغفار کے ذریعہ اپنے دلوں سے معصیت کے زنگ کو زائل کرتے رہنا چاہیے او راحتساب کی کیفیت کے ساتھ اخلاق وکردار کا برابر اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے ، تاکہ وہ دنیا وآخرت کی فلاح وکام یابی سے ہم کنار ہو سکیں، کیوں کہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے اوراللّٰلہ تعالیٰ کا ہاتھ بخشش کے لیے پھیلا ہوا ہے ، اللّٰلہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔اے ایمان والو! اللّٰلہ کی طرف سب مل کر توبہ کرو، شاید کہ تم فلاح پا¶۔(سورہ نور)
واقعہ:
ایک بار امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰلہ سفرمیں تھے ، ایک قصبے میں رات ہو گئی تو نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنے کا ارادہ کر لیا۔ اُن کی عاجزی و انکساری نے یہ گوارا نہ کیا کہ لوگوں کو اپنا تعارف کروا کر خوب آ¶ بھگت کروائی جائے ۔ مسجد کے خادم نے امام کو نہ پہچانا اور اُن کو مسجد سے باہر نکلنے کا کہا، امام نے سوچا کہ مسجد کے دروازے پر سو جاتا ہوں، لیکن خادم نے وہاں سے بھی کھینچ کر نکالنا چاہا۔ یہ تمام منظر ایک نانبائی نے دیکھ لیا جو مسجد کے قریب ہی تھا، اُس نانبائی نے امام کو اپنے گھر رات ٹھہرنے کی پیشکش کر دی جبکہ وہ امام کو جانتا بھی نہیں تھا۔ امام جب اُس کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ نانبائی کام کے دوران بھی کثرت سے استغفار (استغفر اللّٰلہ) کر رہا ہے۔امام نے استفسار کیا: کیا تمہیں اس قدر استغفار کرنے کا پھل ملا ہے ؟نانبائی نے جواب دیا: میں نے جو بھی مانگا اللّٰلہ مالکُ المُلک نے عطا کیا۔ ہاں ایک دعا ہے جو ابھی تک قبول نہیں ہوئی۔امام نے پوچھا: وہ کونسی دعا ہے ؟نانبائی بولا: میرے دل میں کچھ دنوں سے یہ خواہش مچل رہی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰلہ سے ملنے کا شرف حاصل کروں۔امام فرمانے لگے : میں ہی احمد بن حنبل ہوں۔ اللّٰلہ نے نا صرف تمہاری دُعا سُنی بلکہ مجھے تمہارے دروازے تک کھینچ لایا۔(لجمعہ میگزین)
توبہ کی خیروبرکت:
حضرت عبداللّٰلہ بن عباس رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص استغفار میں پابندی کرے گا، اللّٰلہ تعالیٰ اس کی ہر تنگی کو دور کر دے گا اور ہر غم سے خلاصی دے گا اور اس کو روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو گا۔ ( ابودا¶د)
واقعہ:
حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰلہ سے کسی نے قحط سالی کی شکایت کی توفرمایا: استغفار کرو۔دوسرے نے تنگدستی کی شکایت کی توفرمایا: استغفار کرو۔تیسرے آدمی نے اولاد نہ ہونے کی شکایت کی توفرمایا: استغفار کرو۔چوتھے نے شکایت کی کہ پیداوارِ زمین میں کمی ہے توفرمایا: استغفار کرو۔پوچھا گیا کہ آپ نے ہر شکایت کا ایک ہی علاج کیسے تجویز فرمایا؟تو انہوں یہ آیت تلاوت فرمائی:”استغفرو ربکم انہ کان غفاراً یرسل السماءعلیکم مدراراً ویمدد کم باموال وبنین ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انہارا۔“(سورة نوح)ترجمہ:استغفار کرو اپنے رب سے بے شک وہ ہے ، بخشنے والا، وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغات بنادے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری فرمادے گا۔
واضح ہے کہ استغفار پر اللّٰلہ تعالیٰ نے جن جن انعامات کا اس آیت میں اعلان فرمایا ہے تو ان چاروں کو انہی کی حاجات درپیش تھیں، لہٰذا حضرت حسن بصری رحمہ اللّٰلہ نے سب کو استغفار ہی کی تلقین فرمائی۔”استغفر اللّٰلہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ“
توبہ واستغفار کی بہترین دعا:
حضرت شداد بن اوس رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللّٰلہ! توہی میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی مالک ومعبود نہیں، تونے ہی مجھے پیدا فرمایا اور وجود بخشا، میں تیرا بندہ ہوں او رجہا ں تک مجھ عاجز وناتواں سے ہو سکے گا، تیرے کیے ہوئے (ایمانی)عہدومیثاق کے وعدے پر قائم رہوں گا، تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے عمل وکردار کے شر سے ، میں اقرار کرتا ہوں کہ تونے مجھے نعمتوں سے نوازا اور اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے نافرمانیاں کیں اور گناہ کیے ، اے مالک ومولا! تو مجھے معاف کر دے اور میرے گناہ بخش دے ، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں، جس بندے نے اخلاص کے ساتھ ، دل کے یقین کے ساتھ دن کے کسی حصہ میں اللّٰلہ تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کیا اور اسی دن ، رات شروع ہونے سے پہلے اس کو موت آگئی تو بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا ۔ (بخاری)
واقعہ:
حضرت ثوبان رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ چالیس صحابہ کرام رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہم جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہما بھی تھے جمع ہوکر جبر وقدر میں بحث کرنے لگے تو روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور اقدس صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسول اللّٰلہ !صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم آپ باہراپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں انہوں نے ایک نیا کام شروع کردیا ہے ۔ چنانچہ حضور صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ غصہ سے آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخی میں اس طرح نمایاں تھا جیسے سرخ انار کا دانہ آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کے رخسار مبارک پر نچوڑا گیا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہم حضور انور صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کی اس کیفیت کو دیکھ کر کھلے بازو آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کے استقبال کے لئے آگے بڑھے اور ان کا حال یہ تھا کہ ان کے ہاتھ اور بازو کانپ رہے تھے اور عرض کی ” تُب±نَا اِلَی اللّٰلہِ وَرَسُو±لِہ“ہم نے اللّٰلہ تعالیٰ اوررسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم کے دربار میں توبہ پیش کی ۔ آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب تھا کہ تم اپنے اوپر جہنم کوواجب کرلیتے ، میرے پاس جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کی کہ آپ صلی اللّٰلہ علیہ والہ وسلم باہر امت کے پاس تشریف لے جائیں ، انہوں نے نیا کام شروع کردیا ہے ۔ (معجم الکبیر)
دنیاوی مضرت سے حفاظت کے لیے دعا:
حضرت عبداللّٰلہ بن حبیب رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ،شام کو اور صبح کو( یعنی دن شروع ہونے اور رات شروع ہونے پر)تم قل ھو اللّٰلہ احد( سورہ اخلاص) اور معوذتین (سورہ فلق،سورہ ناس) تین بار پڑھ لیا کرو، ہر چیزسے تمہارے لیے یہ کافی ہو گی۔(ابودا¶د، ترمذی)
حضرت عثمان رضی اللّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰلہ صلی اللّٰلہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام کو تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرے تو اس کو کوئی مضرت نہیں پہنچے گی اور کسی حادثے سے دو چار نہیں ہو گا۔”بسم اللّٰلہ الذی لا یضر مع اسمہ شیءفی الارض ولا فی السمائ، وھو السمیع العلیم“تواس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ (ترمذی)
سید الاستغفار:
حضرت شداد بن اوس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص یقین کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا،اگر اسی دن شام سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا،اسی طرح جو شخص یقین کامل کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا ،اگر اسی رات صبح سے پہلے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا۔سید الاستغفار یہ ہے :اللھم ا¿نت ربی لاالہ الا ا¿نت،خلقتنی وا¿نا عبدک ،وا¿نا علی عھدک ووعدک مااستطعت،ا¿عوذبک من شر ما صنعت ، ا¿بوءلک بنعمتک علی وا¿بوءبذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا ا¿نت(رواہ مسلم)
ترجمہ:اے اللّٰلہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوںجس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوںاور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔
واقعہ:
 حضرت ابو لبابہ بن عبدا لمنذر رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہ سے غزوہ¿ بنو قریظہ کے موقع پر ایک خطا سرزد ہو گئی تو آپ رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہ اس قدر نادم ہوئے کہ خود کو ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا: جب تک اللّٰلہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں فرمائے گا تب تک نہ میں کچھ کھاو¿ں گا نہ پیوں گا ،نہ کوئی چیز چکھوں گا، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یا اللّٰلہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے ۔ حضور صلی اللّٰلہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو جب ان کے بارے میں پتا چلا تو ارشاد فرمایا:اگر یہ میرے پاس آ جاتا تو میں اس کے لئے مغفرت طلب کرتا لیکن اب اس نے خود کو باندھ لیا ہے تو جب تک اللّٰلہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہ فرمائے گا، میں نہیں کھولوں گا۔ سات دن تک حضرت ابو لبابہ رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہ نے نہ کوئی چیز کھائی، نہ پی، نہ چکھی ، حتی کہ ان پرغشی طاری ہو گئی۔ پھر اللّٰلہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جب انہیں توبہ کی قبولیت کے بارے میں بتایا گیا تو فرمایا:خدا کی قسم! میں اس وقت تک خود کو نہیں کھولوں گا جب تک کہ نبی کریم صلی اللّٰلہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لا کر اپنے دست اقدس سے مجھے نہیں کھولتے ۔ چنانچہ تاجدار رسالت صلی اللّٰلہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور اپنے پیارے صحابی رضی اللّٰلہ تعالیٰ عنہ کو بندشوں سے آزاد فرمادیا۔ (دلائل النبوہ للبیہقی)اللّٰلہ تعالیٰ ہمارے ان پتھر اور سیاہ نما دل دلوں کو نرم اور صاف کر کے صحیح اور پختہ توبہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین بجاہ سید المرسلین)
انچارج دینی ایڈیشن ، روزنامہ ”اکثریت “پشاور

 

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
 
© 2019 All Rights of Publications are Reserved by Aksriyat.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2019 اکثریت۔